خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 860 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 860

خطبات طاہر جلد ۱۱ 860 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء آنحضور ﷺ کو شریعت کا نگران مقرر کرنے کو خدا تعالیٰ نے امانت فرمایا ہے اور ایسی امانت فرمایا ہے جس کے متعلق فرمایا إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَا بَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا ( الاحزاب: (۷۳) کہ دیکھو کیسی امانت تھی جس کو زمین اور آسمان اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا اتنی بڑی ذمہ داری اُس کے ساتھ وابستہ تھی لیکن دیکھو اس بندے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ نے جو انسان کامل ہے اس نے آگے بڑھ کر امانت کا بوجھ اٹھالیا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی غلامی میں آپ کے کاموں کی ادائیگی امت محمدیہ پر فرض ہے اور اس امانت کو اٹھانے میں تمام امت حضرت محمد مصطفی امیہ کی مددگار اور معاون ہے اور جس حصے پر جتنی امانت ڈالی جائے یا امانت کا بوجھ ڈالا جائے اُس حصے پر یہ امانت گویا خدا تعالیٰ نے ڈالی ہے کیونکہ امانت کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے اور اس پہلو سے جب ہم احادیث نبویہ پر غور کرتے ہیں تو سمجھ آ جاتی ہے کہ کیوں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امانت کے حق کی ادائیگی پر اتنازور دیا ہے اور اُسے قرآن کریم نے بھی خدا تعالیٰ کی امانت ہی قرار دیا ہے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں آیت کی تلاوت کی تھی۔اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگ آپس میں جب خیانتیں کرتے ہو تو پھر تم خدا کی خیانت بھی کرنے لگتے ہو اور رسول کی خیانت بھی کرنے لگتے ہو یعنی وہ خیانت جو سب سے ذلیل اور سب سے زیادہ خطر ناک ہے وہ اللہ اور رسول کی خیانت ہے۔پس ظاہر ہوا کہ اول درجے پر امانت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول اور اُس کے غلاموں پر عائد فرمائی گئی ہے یا اُن کے سپر دفرمائی گئی ہے اور اُس کی ادائیگی میں ہمیں حد سے زیادہ محنت کے ساتھ ، باریک نظر کے ساتھ توجہ دینا ہوگی اور مستقلاً اُس کی حفاظت کرنا ہوگی۔بات یہ ہے کہ جماعت کے عہدیداروں سے متعلق تو میں گزشتہ اس سلسلے میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔ان تمام باتوں کو دہرانا مقصود نہیں ہے مگر مثالیں دیتا ہوں کہ کس طرح انسان اپنی امانت سے غافل ہو جاتا ہے اور کتنی جلدی امانت کو بھولنے کا عادی ہے۔جو باتیں تفصیل سے بیان کی جاتی ہیں اُن کو بھی بار بار دہرانا پڑتا ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے یہ ہمیشہ سے ایسا ہی سلسلہ چلا آ رہا ہے۔چند دن ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عبارت پڑھی۔اُس میں آپ فرماتے ہیں کہ مجھے جو بار بار ایک بات کو دہرانا پڑتا ہے بعض دفعہ لوگ سمجھتے ہیں