خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 860
خطبات طاہر جلد !! صلى الله 860 خطبه جمعه ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء آنحضور ﷺ کو شریعت کا نگران مقرر کرنے کو خدا تعالیٰ نے امانت فرمایا ہے اور ایسی امانت فرمایا ہے جس کے متعلق فرمایا إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا (الاحزاب: (۷۳) کہ دیکھو کیسی امانت تھی جس کو زمین اور آسمان اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا اتنی بڑی ذمہ داری اُس کے ساتھ وابستہ تھی لیکن دیکھو اس بندے یعنی محمد مصطفی ﷺ نے جو انسان کامل ہے اس نے آگے بڑھ کر امانت کا بوجھ اٹھا لیا۔ صلى الله پس حضرت اقدس محمد مصطفی یا اللہ کی غلامی میں آپ کے کاموں کی ادائیگی اُمتِ محمد یہ پر فرض ہے ، اور اس امانت کو اٹھانے میں تمام امت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی مددگار اور معاون ہے اور عل جس حصے پر جتنی امانت ڈالی جائے یا امانت کا بوجھ ڈالا جائے اُس حصے پر یہ امانت گویا خدا تعالیٰ نے ڈالی ہے کیونکہ امانت کا نزول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے اور اس پہلو سے جب ہم احادیث نبویہ پر غور کرتے ہیں تو سمجھ آجاتی ہے کہ کیوں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امانت کے حق کی ادائیگی پر اتناز ور دیا ہے اور اُسے قرآن کریم نے بھی خدا تعالیٰ کی امانت ہی قرار دیا ہے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں آیت کی تلاوت کی تھی۔ اس میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم لوگ آپس میں جب خیانتیں کرتے ہو تو پھر تم خدا کی خیانت بھی کرنے لگتے ہو اور رسول کی خیانت بھی کرنے لگتے ہو یعنی وہ خیانت جو سب سے ذلیل اور سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ اللہ اور رسول کی خیانت ہے۔ پس ظاہر ہوا کہ اول درجے پر امانت وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول اور اُس کے غلاموں پر عائد فرمائی گئی ہے یا اُن کے سپرد فرمائی گئی ہے اور اُس کی ادائیگی میں ہمیں حد سے زیادہ محنت کے ساتھ ، باریک نظر کے ساتھ توجہ دینا ہو گی اور مستقلاً اُس کی حفاظت کرنا ہوگی۔ بات یہ ہے کہ جماعت کے عہدیداروں سے متعلق تو میں گزشتہ اس سلسلے میں تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں ۔ ان تمام باتوں کو دہرانا مقصود نہیں ہے مگر مثالیں دیتا ہوں کہ کس طرح انسان اپنی امانت سے غافل ہو جاتا ہے اور کتنی جلدی امانت کو بھولنے کا عادی ہے۔ جو باتیں تفصیل سے بیان کی جاتی ہیں اُن کو بھی بار بار دہرانا پڑتا ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے یہ ہمیشہ سے ایسا ہی سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ چند دن ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک عبارت پڑھی۔ اُس میں آپ فرماتے ہیں کہ مجھے جو بار بار ایک بات کو دہرانا پڑتا ہے بعض دفعہ لوگ سمجھتے ہیں