خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 859 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 859

خطبات طاہر جلد ۱۱ 859 خطبہ جمعہ ۴ / دسمبر ۱۹۹۲ء خدا اپنی امانتیں امینوں کے سپرد کیا کرتا ہے۔اپنی دینی و دنیاوی امانتوں کے حق ادا کریں۔( خطبه جمعه فرموده ۱۴ دسمبر ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں :- وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَعُوْنَ وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ ) يُحَافِظُوْنَ أُولَيكَ هُمُ الْوَرِثُونَ ) الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَ وسَ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (المؤمنون: ۱۲۹) پھر فرمایا : - گزشتہ کچھ عرصے سے خیانت کا مضمون چل رہا ہے اور گزشتہ جمعہ میں میں نے یہ توجہ دلائی تھی کہ امانتوں کا حق ادا کرنا بہت ضروری ہے۔کسی امانت کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو تو خیانت کہلاتی ہے مگر تمام خیانتوں سے بڑھ کر خیانت اُس حق کی خیانت ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت انسان کے سپرد کیا جاتا ہے۔پس عہدیداروں کی مثالیں دے کر ، عہدوں کے حقوق کے ادا کرنے کی طرف جو توجہ دلائی گئی تھی یہ امانت کے معانی کو کھینچ کر لمبا نہیں کیا گیا تھا بلکہ در حقیقت امانت کا بنیادی معنی یہی ہے کہ اللہ کا حق جو بندوں پر ہو اُس میں خیانت نہ کی جائے اُس کو تمام تر توجہ سے، تمام باریکیوں کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوا تو نزول قرآن کو اور