خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 858
خطبات طاہر جلد ۱۱ 858 خطبه جمعه ۲۷ نومبر ۱۹۹۳ء ہم میں طاقت سے بڑھ کر بوجھ ہے، یہ فرضی اور خیالی باتیں ہیں اس دعا کا حقیقت سے ، خدا کی قبولیت سے تعلق قائم نہیں ہوتا۔جب بھوکا روٹی مانگتا ہے تو اُس کی آواز اور ہوتی ہے اور بغیر بھوک کے آپ روٹی کی طلب کریں آواز میں فرق ہو گا زمین آسمان کا فرق ہو گا تبھی خدا تعالیٰ نے دعا کے ساتھ مضطر کی شرط لگادی ہے کہ جب میں مضطر کی آواز سنتا ہوں تو اُس کی آواز کو قبول کرتا ہوں۔ایک عہدے کا اضطراب یہ ہے کہ وہ کام پر ہاتھ ڈالے اُس کا بوجھ محسوس کرے جانتا ہو کہ اکیلا اُس سے یہ کام ہونا نہیں ہے اور کوشش ضرور کرے تب وہ خدا کے حضور عاجزانہ گرے اور کہے کہ اے خدا تو طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنے والا نہیں ہے اور مجھ پر بھی وہ بوجھ ڈال جس کی طاقت عطا فرما تا چلا جائے۔جب اس طرح محسوس کر کے دعا کی جائے گی تو غائب سے ایسے ہاتھ تو دیکھے گا جو غائب کا ہاتھ نہیں رہے گا بلکہ ظاہر ہو گا اور اُس کے بوجھ اٹھائے گا اور اُس کے بوجھوں کو ہلکا کر دے گا اور وہ اپنے کاموں کو پہلے سے زیادہ بڑھ کر روانی اور عمدگی کے ساتھ اور سلاست کے ساتھ ادا کرنے کی اہلیت اختیار کرتا چلا جائے گا۔ابھی اس کی اور بھی مثالیں دینے والی ہیں ، اور بھی بعض عہدے ہیں جن کے متعلق میں کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں تو انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں یہ مضمون جاری رکھوں گا۔اس عرصے میں جس حد تک آواز عہد یداروں تک پہنچی ہے اور اُس کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔وہ ابھی سے اس کی طرف توجہ شروع کر دیں تا کہ مجھے یہاں بیٹھے دکھائی دینے لگے کہ خدا کے فضل سے کاموں کے انداز میں پاکیزہ تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔