خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 857
خطبات طاہر جلد ۱۱ وقفة 857 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء وقفة وقنة یہ دعا کرے گا کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقره: ۲۸۷) اے خدا! ہم نے تیرے لئے بوجھ اٹھائے ہیں ہم پر جو تو بوجھ ڈالتا ہے ایسے بوجھ نہ ہوں جن کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔اس مضمون کی دعا کو دل کی گہرائی سے کرنے کے نتیجہ میں انسان سمجھ سکتا ہے اُس کے بغیر نہیں سمجھ سکتا۔وہ شخص جس نے دن بھر محنت کی ہو اور پھر رات کو یہ دعا کرتا ہے اُس پر دعا کا حقیقی مضمون روشن ہوتا ہے۔وہ یہ نہیں سمجھ رہا ہوتا کہ خدا مجھ پر ایسی ذمہ داری ڈال دے گا جس کی مجھ میں طاقت ہی نہیں ہے۔وہ اس رنگ میں اس دعا کا مفہوم سمجھتا ہے کہ اے خدا میرے بوجھ تو نے ہلکے کرنے ہیں مجھ میں تو کوئی طاقت نہیں ہے۔جو تو نے بوجھ ڈالے ہیں اُس کی طاقت بھی عطا کر۔یہ مراد ہے اس دعا سے۔رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو میں کام نہیں کرتا وہ میرے سر سے ٹالتا چلا جا۔اگر یہ مطلب ہو تو ہر انسان دنیا کا سب سے نکما انسان بن کر مرے گا کیونکہ انسان کو عادت ہے کام کو ٹالنے کی۔مراد یہ ہے کہ اے خدا میں نے کر کے دیکھا ہے یعنی جان ماری ہے اور میں جانتا ہوں کہ مجھ میں طاقت نہیں ہے پس تو تو طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالنے والا نہیں ہے، میری طاقت بڑھا، یہ اس دعا کا مفہوم ہے اللہ تعالیٰ پھر طاقت بڑھاتا چلا جاتا ہے اور میرا تجربہ ہے ساری زندگی کا کہ کبھی یہ دعا نا مقبول نہیں ہوتی ، رد نہیں کی جاتی ہے۔اگر اس کے مضمون کا حق ادا کرتے ہوئے اس کو سمجھتے ہوئے آپ یہ دعا کرتے ہیں تو خدا دعا ضرور سنتا ہے، ضرور آپ کو طاقت عطا فرماتا ہے آپ کے مددگار مہیا کرتا ہے۔دنیا کے حالات میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے، آپ کی وہ دلی خواہشات جو اُس کی خاطر دل میں پیدا ہوئی ہیں اُن کو پورا کرنے کی کوشش فرماتا ہے۔پس ایک عہد یدار جب اپنی امانت کا حق ادا کرنا چاہے تو دو ہی رستے ہیں۔ایک یہ کہ وہ اپنی امانت کو سمجھے کہ ہے کیا ؟ اُس کا احاطہ کرے۔اُس کی تفاصیل کا اُس کو علم ہونا چاہئے اور پھر وہ ہر اُس چیز پر ہاتھ ڈالے جس کی اُس میں طاقت ہے۔خواہ تدریجاً ڈالے مگر چھوڑے نہ رکھے۔ایک بھی پہلو اس کی امانت کا ایسا نہ ہو جسے وہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ایک دم میں نہیں اٹھتی تو رفتہ رفتہ اٹھائے لیکن اٹھائے ضرور۔جب کوئی امانت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے اُس کا بوجھ محسوس ہوتا ہو اُس وقت یہ دعا کرے کیونکہ بغیر بوجھ محسوس کئے جو دعا کی جاتی ہے اے خدا ہمارے بوجھ ٹال دے