خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 856 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 856

خطبات طاہر جلد ۱۱ 856 خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۹۲ء چند دن کی محنت کے بعد خدا کے فضل سے بہت عمدہ خطوط پر یہ رسالوں کا نظام جاری ہو سکتا ہے۔اب التقویٰ ہے، ریویو آف ریلیجنز ہے، اسی طرح مقامی ہر ملک کے اپنے رسائل ہیں۔جن سے دنیا بھر کے بنی نوع انسان کو یا کم از کم اُن ملکوں کے رہنے والوں کو خصوصیت کے فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے لیکن اُن کی اشاعت کے لئے کوئی فکرمند نہیں، کوئی سمجھتا نہیں کہ یہ میری ذمہ داری ہے۔پس جس کو سیکرٹری اشاعت بنایا جاتا ہے اُس کا تو دل لرزنا چاہئے۔مجھ پر تو مصیبت ، مصیبت تو خیر میں اور معنوں میں کہہ رہا ہوں جہاں تک اس کی ذات کا احساس ہے اُس کو بھی لگے گا کہ کیا مصیبت آپڑی ہے؟ پہاڑ ٹوٹ گیا ہے سر پر اور پھر اُس پہاڑ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے اُس کو دعائیں کرنی ہوں گی ؟ اُس کو توجہ کرنی ہوگی حتی المقدور کوشش کرنی ہوگی۔بوجھ ہلکا ہوتا ہے دوطریق پر اوّل یہ کہ حوصلے کے ساتھ ،صبر کے ساتھ انسان اس کوشش میں لگ جائے کہ کام خواہ کتنا بڑا ہو میں نے کرنا ہے۔اور وہ تھوڑا تھوڑا لے کر حسب توفیق اُس کام کو کرنا شروع کر دے۔ہر روز اگر انسان کچھ کام کر کے سوئے ، کچھ ذمہ داریاں ادا کر کے سوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے طمانیت نصیب ہوتی ہے۔جو نیند ایک تھکے ہوئے مزدور کو آتی ہے وہ ایک عیاش امین کو نہیں آ سکتی۔اُس کو پتا ہی نہیں کہ بدن تھکتا کیسے ہے، کیسے محنت کی جاتی ہے، جو روٹی کا مزا ایک بھو کے کو آتا ہے وہ ایک ایسے عیاش کو کیسے آ سکتا ہے جس نے اپنے معدے کا ٹھونس ٹھونس کر ستیا ناس کیا ہوا ہے۔کوئی طلب نہیں اُس کو چورن کھانی پڑتی ہیں تا کہ بھوک کا مزا پیدا ہو۔جو قدرتی مزا بھوک کا ہے وہ چیز ہی اور ہے۔بھوک کی حالت میں جن لوگوں نے تجربہ کیا ہے ، مجھے تو کئی دفعہ تجربے ہوئے ہیں ، سفر کی حالت میں شکار کی حالت میں ، شدید بھوک کے وقت روٹی کا ایک ٹکڑا، پیاز اور نمک مرچ جو مزا دے جاتے ہیں کہ بڑی سی بڑی دعوت بھی وہ مزا نہیں دیتی۔تو نیند کا مزا بھی وہی ہے جو کمائی جائے۔وہی نیند اصلی ہوتی ہے۔خواہ وہ تھوڑی ہو بڑا دل کو سکون ملتا ہے۔پس ہر عہد یدار کو اس خیال سے محنت کرنی چاہئے کہ میری ذمہ داری ہے اور کوئی دن مجھ پر ایسا نہ گزرے کہ میں اس ذمہ داری کے کسی ایک حصے کو ادا نہ کر رہا ہوں۔اس لگن سے جب عہد یدار کام شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام آسان ہو جاتے ہیں۔ایک دن کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا پھر دوسرے دن کا بوجھ ہلکا ہوگا، پھر تیسرے دن کا بوجھ ہلکا ہو گا رات کو جب وہ تہجد کے لئے اٹھے گا تو