خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 855
خطبات طاہر جلدا 855 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء کوئی انسان اٹھاتا ہے۔اُس کو چاہئے کہ وہ فوراً جائزہ لے لٹریچر کا مرکز سے معلوم کرے، کہ کوئی ایسی چیز تو نہیں جو وہاں موجود ہو ہمارے پاس نہ آئی ہو۔جائزہ لے کہ کون کون سی زبانیں ہیں ، جن میں خلا ہے؟ یہ جائزہ لے کہ جن کو کتابیں دی جاتی ہیں اُن کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔معلوم کریں کہ اُن کی مزید ضرورتیں کیا ہیں ؟ ایسا تو نہیں کہ جماعت لٹریچر کسی اور خیال میں شائع کر رہی ہے پڑھنے والوں کے خیالات اور ہیں ، جماعت کچھ اور دے رہی ہے اور طلب کچھ اور ہے۔غرض کہ بہت تفصیل اور گہرائی کے ساتھ لٹریچر کو شائع بھی کرنا چاہئے اور پھر اُس کے رد عمل کو معلوم کرنا چاہئے اور پھر اُس کو جماعت میں رائج کرنا چاہئے۔ایک رسالہ التقویٰ ہے جو عربی زبان میں شائع کیا جاتا ہے جماعت کی طرف سے۔ایک وقت تھا جب اسے دو تین ہزار کی تعداد میں شائع کیا جاتا تھا لیکن چونکہ سیکرٹری اشاعت نے کبھی دلچسپی نہیں اکثر سیکر ٹریان اشاعت نے کہ کن کے پاس گیا اور کیا نتیجہ نکلا ، کوئی فائدہ ہو یا نہیں ہوا ؟ اُن کو پتا ہی نہیں اس بات کا۔نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے ایسے وسائل تھے جن کے متعلق ہمیں کبھی سمجھ نہیں آئی، کیا فائدہ ہوا اور کیا نہیں ہوا۔کبھی اُن کی طرف سے رقم موصول نہیں ہوئی۔جب جماعت سے پوچھا گیا کہ بتائیے کہ آپ نے کہنے پر دوسو، پانچ سو، ہزار رسالے جاری کئے تھے ،تو کیا بنا؟ تو پھر امیر صاحب کو فکر پیدا ہوتی ہے پھر مجلس عاملہ میں معاملہ پیش ہوتا ہے پھر بتایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس تو دینے کے لئے پیسے کوئی نہیں۔بہتر ہے آپ رسالے بند ہی کر دیں۔رسالے تو بند کر دیئے جاتے ہیں لیکن اس چشمے کے اوپر کون بیٹھا ہے، کس نے اس پانی کو آگے جاری رہنے سے روک دیا ہے؟ اس طرف خیال نہیں آتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر سیکرٹری اشاعت ذمہ دار ہوتا اور امیر اُس کی نگرانی رکھتا تو ہفتہ دس دن میں ایک دفعہ تو اُس سے ملاقات رکھتا۔اُسے معلوم کرتا کہ بتاؤ کون کون سے مرکزی رسائل یا مقامی رسائل کتنے ہیں جو لوگوں کو بھجوائے جار ہے ہیں۔کبھی تم نے اُن سے رابطہ کیا ہے۔وہ پسند بھی کرتے ہیں ان رسائل کو کہ نہیں۔کبھی معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ کون ہیں جو محض مفت وصول کرنے کی حد تک تو خریدار نہیں بنے ہوئے بلکہ پیسے بھی ادا کرنے کی حد تک خریدار بننے کے لئے تیار ہیں اور اُن کو پھر لکھ کر معلوم کر کے اُن سے رقم وصول کی جائے۔کبھی تم نے خیال کیا کہ ایک سال گزرنے کو ہے جماعت نے ابھی تک مرکزی شعبے کو رقم ادا نہیں کی جس کو رسالے جاری کرنے کی ہدایت کی جاچکی ہے۔یہ تمام امور ایک رسالے سے تعلق میں اگر پیش نظر رکھے جائیں تو