خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 854
خطبات طاہر جلد ۱۱ 854 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء مجنون کہتے ہیں۔وہ کام کا جنون ہے لگن ہے، پاگل کر دینے والی لگن ہے۔دن رات انسان اُس میں مصروف ہو جاتا ہے۔یہ وہ مگن ہے جو انبیاء سے ہمیں ورثے میں پالی ہوئی ہے۔جس کے بغیر ہم اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکتے۔پس جماعتی عہدے تو یہ ہیں۔اب سوچئے کہ بیوقوف اور بیچارے بدنصیب وہ لوگ ہیں جو جماعتی عہدوں کو اپنی عزتوں کے لئے لیبل سمجھتے ہیں اور اس کے لئے کوشش کرتے ہیں وہ بہت بڑے خائن ہیں، وہ نظام جماعت کو برباد کرنے والے لوگ ہیں۔اُس نیت سے جو ووٹ دیتا ہے وہ بھی مارا گیا اور اس نیت والے ووٹ جس کو ملتے ہیں وہ بھی بیچارا بدنصیب ہے کیونکہ غیر متقیوں کا امام بنایا گیا ہے۔صلى الله پس امانت کے حق ادا کریں ہر پہلو سے نظر رکھتے ہوئے ، ہر قطرے پر نظر رکھنی ہوگی ، ایک قطرہ بھی کڑوا ہماری جماعت میں باقی نہ رہے۔اگر اُس کی کرواہٹ دور نہیں ہوتی تو بہتر ہے کہ وہ ہم سے الگ ہو جائے مگر اسے تو جماعت کو حوض کوثر بنانا ہو گا۔آنحضرت ﷺ کو قیامت کے بعد یعنی آخرت میں جو حوض کوثر عطا ہونا ہے وہ حوض کوثر اس دنیا میں بن رہا ہے۔وہ حوض کوثر آپ کے غلاموں نے بنایا ہے، غلام بناتے چلے جا رہے ہیں۔وہ تقویٰ جو دلوں سے نچوڑا جائے گا، محمد مصطفی کے عاشق اور غلاموں کے دلوں سے نچوڑا جائے گا وہی تقویٰ ہے جو حوضِ کوثر کا پانی ہے۔وہی ہے جو آئندہ ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان کو سیراب کرتا رہے گا یعنی آپ کے غلاموں کو سیراب کرتا رہے گا۔پس اس پہلو سے اپنی ذات، اپنے وجود کا شعور حاصل کریں آپ کون ہیں ، کیا ہیں آپ پر کیا ذمہ داریاں ہیں اور جتنی ذمہ داریاں ڈالی جاتی ہیں اُن کے امین بننے کی کوشش کریں اور تقویٰ کی روح پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بہت ہی عمدہ بڑی وسعت کے ساتھ اور گہرائی اور لطافت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔عليسة آپ کا جو اقتباس آج میں اس سلسلے میں لایا ہوں۔اب تو پڑھنے کا وقت نہیں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں وہ آپ کے سامنے رکھوں گا۔سردست میں اسی مضمون کے دوسرے پہلو آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پس ایک سیکرٹری اشاعت ہے تب سیکرٹری اشاعت بننے کا اہل ہو گا حقیقت میں جب وہ اپنے کام کو آغاز سے لے کر انجام تک اس طرح اٹھائے گا جیسے سب سے زیادہ اہم ذاتی ذمہ داری