خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 853
خطبات طاہر جلدا 853 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء سہولت کا وقت ہے جب میں آپ کے پاس حاضر ہو سکتا ہوں؟ اگر پھر جواب نہ آئے ، گھر گھر جاکے دروازے کھٹکھٹاؤں گا، اُن کو بتاؤں گا اب وہ شخص نظام جماعت کے لحاظ سے میں نہیں جانتا کہ کس حد تک باشعور ہے اور بیدار مغز ہے لیکن جہاں اپنائیت پائی جائے وہاں انسان کی بہترین صلاحیتیں خود بخود جاگ اٹھتی ہیں اور ہر وہ طریقہ جو انسان کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اختیار کر سکتا ہے وہ نظر کے سامنے آجاتا ہے تو یہ طریقے بغیر کسی نوٹس کے اچانک اُن کے سامنے آگئے اور میں بہت خوش تھا میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔آپ یہ کریں گے تو انشاء اللہ آپ نا کام نہیں ہوگا۔ہم نے تو اتنے دروازے کھٹکھٹانے ہیں وہ دروازے جو انہوں نے سوچے تھے سوچا تھا کہ میں کھٹکھٹاؤں گا۔وہ تو چند تھے۔ہم نے تو لاکھوں کروڑوں دروازے کھٹکھٹانے ہیں اور صرف دروازے کھٹکھٹا کر وہیں پیغام کو ختم نہیں کر دینا اُن دلوں تک پہنچنا ہے جن دلوں کو جگانے کے لئے ہم دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔جب تک دروازوں کے کھٹکنے کی آواز اُن کے دلوں کو بے چین نہ کر دے اُس وقت تک ہمارے مقاصد پورے نہیں ہو سکتے۔اس پہلو سے جب ہم صرف سیکرٹری اشاعت کے کام کی طرف آتے ہیں تو وہ سوچے گا کہ میں نے کتنے لوگوں کو پیغام پہنچانا ہے اُن کی زبانوں میں میرے پاس کیا کچھ ہے۔جو ہے وہ میں ایسے ذرائع اختیار کر کے اُن تک پہنچانے کی کوشش بھی کر رہا ہوں کہ نہیں، جن ذرائع سے نسبتاً جلدی بات اُن تک پہنچ سکتی ہے۔جماعت کے وسائل کم ہیں اگر ہم اپنے وسیلوں پر ہی بیٹھے رہیں اگر میں صرف اُن احمدیوں پر انحصار کروں جو مجھ سے آ کر لٹریچر لے جاتے ہیں تو کتنوں تک پہنچے گا۔بعض ملک ایسے ہیں کہ کروڑوں کی آبادی میں سینکڑوں سے زیادہ احمدی ہیں۔جتنا ذمہ داری بڑھتی جائے اتنا بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔اسی بے چینی کے نتیجے میں پھر دماغ بیدار ہوتا ہے اور انسان سوچتا ہے ترکیبیں سوچتا ہے ، سوچتے سوچتے سوتا ہے بعض دفعہ اللہ تعالیٰ سوچنے والے کو خوابوں میں پھر اُس کے مسائل کا حل بتا دیتا ہے اور ان باتوں میں مگن وہ پھر اٹھتا بھی ہے۔ساری زندگی کا ایک قسم کا جنون سا بن جاتا ہے اور حقیقت میں جنون کے بغیر کوئی کام نہیں ہوا کرتا۔تمام انبیاء کو مجنون کہا گیا ہے۔آخر یہ اتفاق کیسے ہو گیا کہ اگر محض گالی ہوتی تو کسی کو دے دی جاتی اور کسی کو نہ دی جاتی۔سب انبیاء میں تو قدرے مشترک ہے جس کے نتیجے میں اُن کو دشمن انہیں