خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 846
خطبات طاہر جلداا 846 خطبه جمعه ۲۷ نومبر ۱۹۹۲ء بگاڑنے کے خطرہ رکھتی ہوں اُن کو یا تو خدا تعالیٰ ضرور ان کی اصلاح فرمادے گا اور خود سمجھا دے گا اُس شخص کو جس سے غلطی ہوئی اور وہ اپنے غلط فعل کو کالعدم کر دے گا۔ یا پھر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے متعلق یہ فیصلہ فرمائے کہ مزید اس امانت کا اہل نہیں رہا تو اسے واپس بلا سکتا ہے مگر جیسا کہ میں نے بیان کیا امارتوں اور دیگر امین داروں کی نگرانی میں میں چونکہ مالک نہیں ہوں یا کوئی بھی خلیفہ مالک نہیں ہے اس لئے اُس کے اختیارات محدود ہیں اُنہی محدود اختیارات کے تابع وہ فیصلے کرتا ہے لیکن اُس کے سامنے جواب دہ نہیں ۔ جس طرح وہ ہر لمحہ خدا کے سامنے جواب دہ رہتا ہے جو اُن کی جواب طلبی کرتا ہے یعنی خلیفہ وقت ۔ ہر وقت خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔ جماعت خلیفہ وقت کے سامنے جوابدہ ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے جو امانت خلیفہ وقت کے سپرد فرمائی ہے وہ آگے مختلف دائروں میں جماعت کے مختلف عہدیداروں کے سپرد کی جاتی ہے اور اُن سے جو جواب طلبی ہے وہ دوانسانوں کے درمیان ہے اور اُس میں محدود علم کی بنا پر کئی لوگ بچ جاتے ہیں اور محدود علم کی بنا پر کئی لوگ سزا پاتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ سزاوار نہ ہوں ۔ الله انسانی معاملات میں اس قسم کی غلطیوں کی گنجائشیں رہتی ہے مگر نگرانی ضروری ہے اور اُسی انی کی طرف میں آج آپ کو اس لئے متوجہ کرنا چاہتا ہوں ۔ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ امین اگر خیانت کرے تو اُس کی خیانت سب سے زیادہ خطرناک خیانت ہے اور اُس سے سب سے زیادہ باز پرس ہوگی ۔ پس جتنے جماعت میں امیر ہیں وہ بھی اس حدیث کے تابع ہیں اور جتنے دوسرے عہدے دار ہیں جو امراء کے تابع ہیں وہ بھی اس حدیث کے تابع ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کے دوسرے فرمودات سے پتا چلتا ہے کہ اس مضمون کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے کوئی ایک بھی ایسا پہلو نہیں جو اس سے بچ گیا ہو۔ چھوٹے سے چھوٹا عہدیدار بھی در اصل آنحضرت ﷺ کے فرمان کے تابع اپنی زندگی گزارتا ہے جو امین بنایا گیا ہے اور اس لحاظ سے امانت کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔ صلى الله جماعت کو جب میں بعض ہدایتیں دیتا ہوں ، نصیحتیں کرتا ہوں تو اُن نصیحتوں کو سن کر ان پر کیسے عمل کیا جاتا ہے یہ عمل کا انداز ہر شخص کی امانت کا آئینہ بن جاتا ہے۔ بہت سے امراء ہیں جب وہ وہ سے اس نصیحت کو سنتے ہیں وہ اُس کو اپنی جماعت میں جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نصیحت سے مراد