خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 830
خطبات طاہر جلد ۱۱ 830 خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء اور پھر اس وقت سے سنبھل ہی نہیں رہی۔آج کل مثلاً جو ہو رہا ہے یہ کوئی ایسی بیماری نہیں جو آج پیدا ہوئی ہے۔یا چند سالوں میں پیدا ہوئی ہے۔اپوزیشن کہتی ہے کہ نواز شریف صاحب نے یہ بیماریاں پیدا کی ہیں۔یہ الزام لگانے والے جب خود او پر آئے تھے تو اس وقت کہتے تھے فلاں نے پیدا کیں ہیں۔اس وقت نواز شریف صاحب موجود ہی نہیں تھے ان سے پہلے اور تھے۔بیماریاں پہلے سے شروع ہوئی ہیں اور ان کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔بیماری اس وقت تک نہیں تھی جب تک قائد اعظم زندہ تھے۔قائد اعظم بہت صاحب فراست انسان تھے۔باتوں کی چالا کی ان کو نہیں آتی تھی لیکن عقل میں تقویٰ تھا۔یہ ملاں اُن پر اعتراض کرتے ہیں اور حملے کرتے ہیں کہ یہ غیر مسلموں کی طرح تھا۔تقویٰ ایسی چیز ہے کہ اگر غیر مسلم میں بھی ہو تو اس عقل کو بھی جلا بخش دیتا ہے اور اگر نہ ہو تو کتنا بڑا پکا مسلمان ہو اُس کے اندر اندھیرے ہی پلیں گے اس سے زیادہ اور کچھ اس سے توقع نہیں رکھ سکتے۔تو قائد اعظم نے ملاں سے صلح نہیں کی ، ملاں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئے یعنی اس حد تک کہ اصولوں کے سودے کر لیں۔قائد اعظم نے اپنی زندگی میں جتنے فیصلے کئے ہیں ان کا تنقیدی نظر سے مطالعہ کر کے دیکھ لیجئے ایک بھی فیصلہ ایسا نہیں ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر نہ ہو۔ایک سربراہ کا تقویٰ یہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے جو اُس کے نزدیک قوم کے لئے جائز اور درست ہے اور اخلاق کے اعلیٰ اصولوں کے منافی نہیں ہے۔اس پہلو سے قائد اعظم کا فیصلہ ہر شک سے بالا تھا اور ہر قسم کی تنقید سے بالا تھا۔مولویوں سے دیکھ لیجئے کہ انہوں نے اس بات پر ٹکر لی کہ مولوی کہتے تھے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دو ہم تمہاری جوتیاں چاہیں گے قائد اعظم کو اپنی جوتیاں چٹوانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔یہ بھی تقوی کی ایک علامت ہے۔ان کو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ کوئی ان کی تعریف کرتا ہے یا نہیں کرتا لیکن انہوں نے کہا کہ میں اس اصول کو تسلیم نہیں کر سکتا۔قوم پھٹ جائے گی جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے گا ملی تعریف کی رو سے مسلمان کہلائے گا۔میں ایک سیاست دان ہوں ، مجھے مذہبی تعریف کی باریکیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، نہ میرا کام ہے۔اللہ جس کو چاہے مسلم قرار دے اور جس کو چاہے غیر مسلم قرار دے دے مگر میرے نزدیک ملت کے لئے مسلمان کی ایک ہی تعریف قابل قبول ہو سکتی ہے جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے گا وہ مسلمان ہے۔جو نہیں کہتا وہ نہیں ہے۔چھٹی کرے۔ہر شخص آزاد ہے جو چاہے کرے جو چاہے کہے اتنی سی بات پر وہ اڑ گئے۔انہوں نے کہا کہ