خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 829

خطبات طاہر جلدا 829 خطبه جمعه ۲۰ رنومبر ۱۹۹۲ء ۔ وہ مرکز جہاں نیتیں پلتی ہیں وہ گندہ ہو چکا ہے اور امارتیں گندی ہوگئی ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی ذلیل سے ذلیل ترین ملک کی امارت یعنی سیاست اور اس کے جو سر براہ ہیں وہ پاک اور صاف ہو جائیں اور قوم بہتر نہ ہو جائے یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ جہاں ملکوں کے حال گندے اور بد ہیں جان لیں کہ وہاں کی سیاست گندی ہے، وہاں کے سربراہ جن کے ہاتھ میں معاملات کی کلید تھمائی جاتی ہے، چابی پکڑائی جاتی ہے وہ بدنیت اور گندے ہو چکے ہیں اس لئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ ضرور وہاں چلے گی اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی جواب طلبی ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا کہ دیکھو تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بد دیانتیاں کرتے ہو اور یہ بھول جاتے ہو کہ تمہاری ہر بد دیانتی در حقیقت خدا سے بد دیانتی ہے اور اس کے رسول سے بد دیانتی ہے اور جب خدا اور اس کے رسول سے بد دیانتی کرو گے تو بغیر حساب کے چھوڑے نہیں جاؤ گے۔ خدا کی مخلوق جس کے بھی سپرد کی جائے خواہ وہ سیاسی سربراہ ہو یا کسی اور حیثیت سے سربراہ ہو، جن معاملات میں خدا کے بندے اُس کے سپرد کئے جاتے ہیں ان معاملات میں اگر وہ بددیانتی کرتا ہے تو اس کا اثر ساری قوم پر پھیلے گا۔ دو قسم کی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ ایک ذاتی اور ایک عامۃ الناس سے تعلق رکھنے والی۔ یہاں اس کمزوری کا ذکر ہے جس کا تعلق قوم سے ہے یعنی قومی معاملات میں خیانت نہ کرنا۔ تمہاری اپنی خیانت بھی پوچھی جائے گی اپنے متعلق اپنی ذمہ داریوں میں اس ناکامی پر بھی پوچھے جاؤ گے جن کا تمہاری ذات سے صرف تعلق ہے اور تمہارے خاندان سے ہے لیکن اتنی بڑی جرات نہ کر بیٹھنا ان معاملات میں خیانت کرو جن کا ساری قوم سے تعلق ہے ان کا جھنڈا پھر اندازہ کریں کہ کتنا بلند ہوگا وہ تو انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتا ہے، امریکہ کا سر براہ ہے، روس کا سر براہ ہے، یورپ کی حکومتوں کے سربراہ ہیں۔ ان کے اپنے طور کی خیانتیں ہیں اور خدا تعالیٰ یہ خبر دیتا ہے کہ یہ سارے پوچھے جائیں گے۔ ان کے بداثرات قوم پر ضرور پڑتے ہیں لیکن میں اس وقت تیسری دنیا کی حکومتوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے درست ہونا ہے تو کسی طرح دُعائیں کر کے یا جیسا بھی بس چلے اپنا سر براہ دیانت دار چن لیں ، ایسا جو پاک نیت ہو، جو با اصول ہوا اور اصولوں سے نہ ٹلے اور اصولوں کا سودا نہ کرے۔ اب دیکھیں پاکستان کی درد ناک تاریخ میں دراصل یہی ایک بنیادی کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ ایک ہی رخنہ ہے جس کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ پاکستان پھٹا ، ساری قوم پھٹنے لگی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی *