خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 828
خطبات طاہر جلد ۱۱ 828 خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ء سمجھیں تو بڑی بڑی ہلاکتوں سے بچ سکتے ہیں ورنہ دنیا کی کوئی طاقت ان کو بچا نہیں سکتی کیونکہ امیر کی خیانت سے بڑھ کر اور کوئی خیانت اثر نہیں دکھاتی دوسروں کو بے بس کر دیتی ہے۔یہ ایسی خیانت ہے کہ اس کے مقابل پر ایمان داروں کی ایمان داریاں بھی کچھ کر نہیں سکتیں بے بس اور بہتی ہو جاتی ہیں۔تیسری دنیا میں جب میں سفر کرتا ہوں اور میری ملاقاتیں جب ان کے سر براہوں سے ہوتی ہیں مثلاً جب میں نے افریقہ میں دورہ کیا تو میں نے ہر صاحب امر کو یہ بات پہنچائی میں نے کہا ایک زمانہ ایسا تھا کہ آپ شکوہ کیا کرتے تھے کہ آپ کو سفید ہاتھوں نے لوٹا ہے بڑا ظلم تھا۔باہر سے سفید ہاتھ آئے اور انہوں نے آپ کو لوٹا لیکن اب آپ کو کالے ہاتھ لوٹ رہے ہیں ، وہ آپ کے اپنے ہاتھ ہیں۔اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں۔جب تک آپ دیانت کے معیار کو بلند نہیں کرتے آپ کسی پہلو سے کسی رُخ سے ترقی نہیں کر سکتے۔نہ آپ کی اقتصادیات سنبھل سکتی ہے، نہ آپ کی سیاسیات درست ہو سکتی ہے ، نہ کسی شعبہ زندگی میں کسی اصلاح کی صورت ممکن ہے کیونکہ ایک بددیانت آدمی ایک ایسے گندے پودے کی طرح ہو جاتا ہے جس کو کڑوے پھل لگتے ہیں۔ایک خاندان کے ایک شخص کے متعلق کسی نے ایک بزرگ عورت سے عرض کیا کہ اس ماں کی جو فلاں بیٹی ہے وہ تو اچھی ہے نا تو اس نے اپنی بزرگی اور سادگی اور گہری فراست کے ساتھ صرف یہ کہا کہ کڑیے کوڑی دل نوں مٹھے پھل نہیں لگ دے۔اگر بیل کڑوی ہو جائے تو اس کا ہر پھل کڑوا ہوتا ہے تم نہیں سمجھتی یہ بیل کڑوی ہے۔صلى الله بہت گہری حکمت کی بات ہے۔تو امیر کی امارت کے متعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جو توجہ دلائی تو دراصل اس کو ہم دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ خبردار! بیل نہ کڑوی ہو۔اگر کسی قوم کا امیر گندہ ہو جائے ، اس کی نیتیں خراب ہو جائیں، وہ خائن بن جائے تو ساری قوم اس بیل کی طرح ہو جاتی ہے جسے پھر لا زما کڑوے پھل لگیں گے پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو بچا نہیں سکتی۔آج تیسری دنیا کے مسائل کا حل صرف اس حدیث میں ہے۔جتنی مرضی کا نفرنسیں کر لیں۔بڑے ممالک ایک طرف آجائیں، چھوٹے ممالک ایک طرف اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں یا سیاسی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں سب فرضی باتیں ہیں۔ایک کوڑی کا نتیجہ بھی نہ آج تک کبھی نکلا ہے نہ آج نکل سکتا ہے اور نہ کل نکلے گا۔بیماری ہے ہی اور ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والی بات کرتے ہیں اگر گھٹنے پر چوٹ پڑی ہے تو آنکھ کیوں پھوٹے گی۔گھٹنا پھوٹے گا تو آپ کا دل پھوٹ گیا ہے