خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 818 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 818

خطبات طاہر جلدا 818 خطبه جمعه ۱۳/ نومبر ۱۹۹۲ء فلموں میں زیادہ سے زیادہ جو چیزیں ملتی ہیں وہ وہی ہیں جو تمہاری گلی میں عام ہیں۔کتوں کو دیکھ لو مویشیوں کو دیکھ لو۔انسان بے حیائی میں اُن سے بڑھ نہیں سکا۔کوئی ایسی چیز ایسی ایجاد نہیں کر سکا جو قدرت نے تمہارے لئے نمونے کے طور پر وہاں موجود نہیں۔جو حقیقت میں وہ جو سالہا سال پہلے اس گفتگو کے دوران میں نے اس مضمون کو آگے بڑھایا تھا کہ مستقبل میں یہ ہوگا اور میں حیران ہوتا ہوں که بعینہ اسی طرح آج کی دنیا میں ہو چکا ہے۔یعنی مغربی دنیا میں یہ باتیں اپنے کمال کو پہنچ چکی ہیں۔بے حیائی کرتے کرتے جانوروں کی نقل اتارنا ، جانوروں جیسے ہو جانا، اسی طرح کی اپنے لطیف مزاج کو ناقص کرتے کرتے جانوروں کی حد تک پہنچادینا۔یہ سب کچھ ہو گیا لیکن وہ لذت حاصل نہیں ہوتی جس کی پیروی کی جارہی ہو وہ پھر آگے بھاگ جاتی ہے۔یہاں تک کہ انسان ایک ایسے خطر ناک مقام پر پہنچتا ہے جس کے بعد ہر قسم کی بدیاں پھوٹتی ہیں۔گھروں میں بچوں سے مظالم اور کئی قسم کی بے حیائیاں پھر Drug Addiction لیکن Excitement آگے آگے بھاگتی ہے اور چاہتی ہے اور چاہتی ہے اور قرآن نے جیسے جہنم کا نقشہ کھینچا ہے کہ وہ آخر یہی کہتی رہے گی۔هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ ، هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ ، هَلْ مِنْ مَّزِید اور بھی کچھ ہے تو ڈال دوخدا اور بھی کچھ ہے تو ڈال دے، تو یہ نفس کی جہنم تو بھرنے والی نہیں ہے۔اپنے معاشرے کو تباہ نہ کرو اور اپنے سکون اور طمانیت کو برباد نہ کرو تمہارے گھر ٹوٹ جائیں گے تمہارے گھروں سے سکون اُٹھ جائے گا۔امیر ملکوں کے نخرے ہیں ان کی بے حیائیاں ان تک ہی رہنے دو۔غریبوں میں جب یہ بے حیائیاں منتقل ہوں تو اس کے ساتھ اور بھی زیادہ خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔جرائم بہت شدت کے ساتھ سر اٹھاتے ہیں۔جرائم کا ان بے حیائیوں سے گہرا تعلق ہے یہاں بھی ہے وہاں بھی ہوگا لیکن غریب ملکوں میں امیر ملکوں کی عیاشیاں تو کسی صورت میں جیسے کہتے ہیں کہ پگ نہیں سکتیں، یہ ان پر پورا نہیں اتر سکتی ہضم نہیں ہوں گی۔پس اپنے معاشرے کی حفاظت کرو اور جماعت احمدیہ پاکستان اور ہندوستان اور اسی طرح یورپ کی جماعتوں میں بھی میں نصیحت کرتا ہوں کہ خیانت کا جو انسانی معاشرے سے تعلق ہے اس مضمون کو اس آیت میں مختصر بیان فرما دیا ہے اور اس کا آخری انجام دکھا دیا ہے کہ یا درکھو کہ کافروں کے لئے ہم نے لوط کی بیوی اور نوح کی بیوی کی مثال رکھی ہے۔یہ تفصیل بیان نہیں فرمائی اس لئے