خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 3
خطبات طاہر جلدا 3 خطبه جمعه ۳ / جنوری ۱۹۹۲ء جماعت ہے جس کا آغاز قادیان کی اسی بستی میں آج سے تقریباً سو سال پہلے ہوا تھا۔پس امن عالم کے حصول کے لئے اگر چہ ہماری طاقتیں بہت محدود ہیں اور إِلَّا الَّذِينَ کی ذیل میں ایک مختصر سے گروہ کے طور پر ہماراذکر ہوا ہے۔اگر چہ اتنی تھوڑی تعداد کے لئے بظاہر ممکن نہیں کہ وہ تمام عالم کے گھاٹے کو نفع میں تبدیل کر دے۔مگر قرآن کریم نے جو نسخہ عطا فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ إِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اگر وہ ایمان پر قائم رہیں۔نیک اعمال کے ساتھ چمٹے رہیں اور وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ خواہ کوئی سنے یا نہ سنے حق بات کی نصیحت کرتے رہیں۔حق بات کی نصیحت حق طریق پر کرتے رہیں اور صبر کی نصیحت کرتے رہیں اور صبر کے طریق پر نصیحت کرتے رہیں۔یہ وہ نسخہ ہے جو قرآن کریم نے تمام عالم کے گھاٹے کو نفع میں تبدیل کرنے کا پیش فرمایا ہے۔خدا کرے ہمیں اس کی توفیق ملے۔بعض دفعہ ایک نسل کو اپنی زندگی میں ایک انقلاب کا منہ دیکھنے کی توفیق مل جاتی ہے۔بعض دفعہ دو نسلوں کو یکے بعد دیگرے انقلابات کے کچھ حصے دیکھنے کی توفیق ملتی ہے لیکن ہمارا اسفر لمبا ہے۔احمدیت کو آئے ہوئے آج تک سوسال سے کچھ زائد عرصہ گزرا کئی نسلیں ہماری گزر چکی ہیں اور ابھی ہم نے لمبا سفر طے کرنا ہے۔یہی حکمت ہے کہ صبر پر اتنا زور دیا گیا۔وہ لوگ جو صبر کی توفیق نہیں رکھتے اگر ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے کا میابی دکھائی نہ دے تو وہ حوصلے ہار بیٹھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس مقصد کی پیروی کا کوئی فائدہ نہیں۔جان کا زیاں ہے اور کوششوں کا نقصان ہے لیکن وہ لوگ جو خدا کی خاطر کوشش کرتے ہیں وہ اپنے مقصد کو اپنی آخری صورت میں نہ بھی حاصل کر سکیں تب بھی درحقیقت ان کا ایک مقصد ہر لمحہ پورا ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ مقصد ہے رضائے باری تعالیٰ کا حصول۔وہ دنیا میں جو تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اپنی ذات کی خاطر نہیں ، اپنی تعداد بڑھانے کے لئے نہیں ، اپنے رسوخ کو پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے۔پس ان میں سے جو بھی جس حالت میں بھی جان دیتا ہے وہ کامیاب حیثیت سے جان دیتا ہے اور اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے جان دیتا ہے کیونکہ اس کے رب کی رضا کی نگاہیں اس پر پڑرہی ہوتی ہیں۔یہی وہ یقین کامل ہے، یہی وہ اعلیٰ درجہ کا احساس ہے جسے فوز عظیم کہا جاتا ہے۔یعنی ایسی کامیابی کہ دشمن کو دکھائی دے یا نہ دے مگر ہر شخص جو اس کامیابی کا مزہ چکھتا ہے اور اس میں سے گزرتا ہے وہ کامل یقین رکھتا ہے کہ وہ کامیاب ہو گیا۔