خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد ۱۱ 762 خطبه جمعه ۱/۲۳ کتوبر ۱۹۹۲ء حاصل نہیں تھا وہ مسجد کی صفائی سے اتنا بلند مقام حاصل کر گئی کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی نظروں میں مقام بنایا ہے اور یقیناً خدا کی نظروں میں بھی مقام بنایا ہے، تو صفائی کو معمولی نہ سمجھیں۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی مثال کو بھی پیش نظر رکھیں اور پھر اس واقعہ کو پیش نظر رکھیں جو آپ کے سامنے رکھا ہے۔مسجد کو صاف کرنا چاہئے۔اگر کوئی خاندان مل کر مسجد کی صفائی کا پروگرام بنا ئیں تو اس سے خدا والوں کی نظر میں ان کی عزت اور ان کا احترام بڑھے گا اور خدا کی نظر میں بڑھے گا۔پھر مسجد میں کوئی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہئے جس سے مسجد میں گندگی پیدا ہوتی ہو۔جوتوں کو جواُتارنے کا حکم ہے اس کا اسی سے تعلق ہے لیکن یہ تو نہیں کہ جو تے باہر رکھ دیئے جائیں اور کپڑے اتنے غلیظ ہوں یا کوئی ایسی بیماری ہو جس سے مسجد گندی ہوتی ہو۔مثلاً بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ ماتھے پر ایگزیما ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ان کے ہاتھوں پر یا چہرے پر ناسور ہوتے ہیں لیکن وہ اس بات کا ذرہ خیال نہیں کرتے کہ وہ دوسرے نمازیوں کے لئے تکلیف کا موجب ہی نہیں بنیں گے بلکہ بنیادی طور پر ان میں بیماریاں پھیلانے کا موجب بھی بنیں گے یعنی نفسیاتی تکلیف ہی نہیں بلکہ عملاً بیماریاں پھیلانے کا موجب بنیں گے اور مسجد کو گندا کرنا اپنی ذات میں ایک گناہ ہے۔ایسے لوگوں کو فرض ہے کہ اگر انہوں نے مسجد آنا ہے تو اپنا کپڑا لے کر آیا کریں موٹی تہہ والی اپنی ایسی جائے نماز ساتھ لایا کریں جس کے نتیجہ میں مسجد کے فرش کے گندے ہونے کا کوئی احتمال نہ ہو۔ایسے لوگوں کو یہ بھی تاکید ہے (جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ مسجد سے جو سبق سیکھیں اپنی زندگی میں جاری کیا کریں) کہ اگر ہاتھوں میں کوئی ایسی بیماری ہے تو پھر وہ مصافحہ نہ کیا کریں۔بہت مدتیں ہو گئیں میرے پاس لوگ علاج کے لئے آتے ہیں اور ایسے مریضوں کو تو خاص طور پر شوق ہوتا ہے کہ پہلے مصافحہ کریں بعد میں بتائیں کہ ہمارے ہاتھ میں یہ گندی بیماری ہے اور بعض دفعہ وہ پہلے اپنے زخم دکھاتے ، ہاتھ لگاتے ، ان کو چھیڑتے اور پھر ایک دم السلام علیکم کہہ کر مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڑھا دیتے ہیں۔آدمی مجبور ہوتا ہے ورنہ ان کی دل شکنی ہوگی لیکن وہی مضمون ہے جو مسجد میں آپ نے سیکھا کہ اپنے انکسار کی خاطر ایک گندے آدمی کو بھی برداشت کرو۔تکبر سے اس کا ہاتھ نہ جھٹکو لیکن اس گندے آدمی کا یا بیمار آدمی کا اپنا بھی تو فرض ہے۔اس کا بھی تو سوسائٹی پر کوئی حق ہے اسے چاہئے کہ وہ