خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد ۱۱ 754 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء نہیں کہلائے گا۔چنانچہ اس کی روشنی میں آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں اپنے لباس نہ درست کیا کرو۔( بخاری کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۷۶۷) اگر تم اس خیال سے اپنے لباس ٹھیک کرو گے کہ پتلون کی کریز نہ خراب ہو جائے۔یا کسی کروٹ پر بیٹھنے سے شلوار کی کریز خراب نہ ہو جائے تو تمہارا لباس لِبَاسُ التَّقویٰ نہیں رہے گا۔تم خدا کے حضور حاضر ہوئے ہو اور خدا کے حضور حاضر ہوکرایسی حرکتیں کرنا جس سے تمہیں اپنے دکھاوے کا خیال رہے یہ لباس کی نظافت کی روح کے خلاف ہے پس دیکھیں بظاہر دو متضاد چیزیں ہیں لیکن متضاد نہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ایک طرف فرمایا اچھا صاف ستھرا لباس لے کر جایا کرو لیکن دوسری طرف تقویٰ کا لباس بھی فرما دیا اور تقویٰ کے لباس میں یہ معنے آگئے کہ تمہارا ظاہری طور پر نفیس اور ستھرے لباس میں ملبوس ہونا اچھی بات ہے مسجد میں جاؤ تو یہ زینت بھی لے کر جاؤ لیکن یاد رکھنا کہ اگر تمہاری زینت تقوی کے خلاف ہوگی تو ایک بالا اصول پر تم ایک چھوٹے اصول کو قربان کر رہے ہو گے اس خیال سے کہ میرے کپڑے کی کریز خراب نہ ہو، ان میں بل نہ پڑ جائیں اگر تم خدا کی حضوری کو نظر انداز کر دو گے تو تقویٰ پھٹ جائے گا اور تم ایک پھٹے ہوئے کپڑے میں خدا کے سامنے ہو گے۔پس لِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ہمیں بتاتا ہے کہ خُذُوا زِينَتَكُمْ پر اس آیت کریمہ کا بھی اثر ہے۔اور زینت کے مضمون میں یادرکھیں کہ زینت سے مراد ظاہری طور پر یہ ہوگی کہ ایسالباس ہو جو آپ کے لحاظ سے زینت ہے۔ایک غریب آدمی کی زینت بھی تو ہوا کرتی ہے اگر اسے کسی بڑے آدمی کے سامنے حاضر ہونا ہو اور پھٹے ہوئے کپڑے بھی ہوں اور ان کو بھی اگر وہ ٹھیک کر کے یا گھر میں بیٹھ کرسی کریا خود گھر میں ہی دھو کر پہنتا ہے تو اس پر کوئی حرف نہیں، اس کی زینت کامل ہے۔چنانچہ صرف زینت نہیں فرمایا۔خُذُوا زِينَتَكُمْ فرمایا ہے جو تمہارے پاس اچھی چیز ہے وہ پہنا کرو اور اس لحاظ سے بھی امیر اور غریب کو برابر کر دیا دونوں کے ساتھ یکساں حسن سلوک ہے۔ایک آدمی کہہ سکتا ہے میرے پاس یہی زینت ہے میں یہی لے کر جاتا ہوں۔اللہ کہے گا ٹھیک ہے تمہاری یہی زینت قبول ہے۔ایک امیر آدمی کے پاس زیادہ اچھی زینت کے کپڑے ہیں وہ انہیں پہنے گالیکن اگر اس میں تکبر آجائے گا تو وہ زینت نہیں رہے گی۔اگر وہ کپڑے اس کی عبادت میں مخل ہوں گے تو پھر وہ زینت نہیں رہے گی۔پس زینت لے کر جانا ضروری ہے اور اپنی توفیق کے مطابق زینت لے