خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 753

خطبات طاہر جلدا 753 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء صلى الله عروسة۔ میں جو آپ کا فاصلہ ہے وہ خدا کے حضور بھی اسی طرح دکھائی دینا چاہئے ۔اس لئے ان فاصلوں کو مٹانا ادب سے گہرا تعلق رکھا ہے ورنہ تکبر کا شیطان داخل ہوگا۔ ایک غریب آدمی پاس آکر کھڑا ہوتا ہے اور کوئی اس خیال سے کہ میرے کپڑے صاف ہیں اس کے کپڑے گندے ہیں ایک طرف سمٹ جاتا ہے تو لازماً وہ متکبر ہے اور کسی متکبر کی نماز قبول نہیں ہو سکتی ۔ وہ خدا کے سامنے ایک الگ دربار بنا رہا ہے۔ اگر خدا کی حضوری کا تصور ہو تو وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی ۔ خواہ کیسا ہی گندہ کوئی شخص کیوں نہ ہو اگر وہ نماز میں آکر ساتھ کھڑا ہو گیا ہے تو لازماً اس کے ساتھ جڑنا پڑے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک آدمی گندی حالت میں بھی نماز میں جایا کرے۔ یہ اس کا قصور ہے جو اپنی جگہ ہے کیونکہ ادب کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جو کچھ صاف ستھرا میسر ہے وہ پہن کر جاؤ ۔ سر پر ٹوپی پہننا یہ بھی ادب کا تقاضا ہے کپڑوں کو صاف رکھنا بھی ادب کا تقاضا ہے اور جن کو نماز میں یا مسجد میں اس ادب کی عادت ہو وہ پھر مسجد سے باہر بھی ایسے ہی رہتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق کثرت سے یہ روایت ملتی ہے کہ سادگی تھی لیکن صفائی بھی بہت تھی ، نظافت تھی ، بدن بھی پاک رہتا تھا، کپڑے بھی صاف اور پاک رہتے تھے اور آجکل بزرگی کا جاہلانہ تصور یہ ہے کہ کپڑے میلے ہوں ۔ گویا ہمیں دنیا کی پرواہ ہی نہیں ہم دنیا سے بے نیاز ہو چکے ہیں، خدا میں ڈوبے ہوئے ہیں حالانکہ پاک چیز میں ڈوبنے کے لئے پاک ہونا ضروری ہے ۔ پس گندگی کا نیکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض ایسے معاشرتی پس منظر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بعض عادتیں بگڑ جاتی ہیں وہ الگ مسئلہ ہے لیکن ایک انسان جس کو حضوری کا تصور ہو وہ ہمیشہ صاف ستھرا ہو کر مسجد میں جائے گا اور وضو بھی یہی سکھاتا ہے، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۳۲) کہ مسجدوں میں جایا کرو تو اپنی زینتیں لے کر جایا کرو۔ زینت کا ایک مطلب تو ہمیشہ میں بیان کرتا ہوں کہ تقویٰ ہے کیونکہ لباس کے تعلق میں بھی خدا تعالیٰ نے تقویٰ کے پہلو سے جواب دیا ہے۔ فرماتا ہے: لِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (الاعراف: ۲۷) لباس کے متعلق تم سوچتے ہو کہ کونسا اسلامی ، کونسا غیر اسلامی کونسا مناسب ، کونسا غیر مناسب تو ہمیشہ یاد رکھو کہ لِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ تمہیں تقویٰ کا لباس پہننا چاہئے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لباس میں تقویٰ کے خلاف کوئی چیز نہیں ہونی چاہئے ۔ پس ایسی زینت جو تکبر پر منتج ہو جائے مثلا اس شان کا لباس جو نماز میں حائل ہو ۔ یہ بھی تقویٰ کا لباس کا لا