خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 752

خطبات طاہر جلداا 752 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء یہ ایک بہت ہی پیارا اظہار محبت ہے جو ایک ادب میں ڈھلتا ہے اور خدا کے حضور ایک بہت ہی حسین تصور پیش کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ۔ دلوں میں فاصلے بڑھیں گے اور دشمنیاں پیدا ہونگی اور یہی مراد شیطان کے داخل ہونے سے ہے۔ پھر تکبر کا شیطان بھی داخل ہوتا ہے۔ نماز میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ خدا کے حضور ایک دوسرے کے ساتھ اس لئے ملو کہ وہ تم سے اتنا بلند ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے تمہارے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہا۔ اس مضمون کو اسلامی معاشرے کے قیام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی کے بعد جو انسانی فاصلے ہیں وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے جتنی دور کوئی چیز ہوا اتنا ہی نزدیک کے فاصلے بے حقیقت ہوتے جاتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں کہ سمندر کی مد و جزر میں چاند تو اثر انداز ہوتا ہے لیکن سورج نہیں ہوتا حالانکہ سورج بہ نسبت چاند کے سمندر کے اوپر زیادہ اثر پیدا کر رہا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ چاند کو وہ رفعت حاصل نہیں ہے اور چاند اتنا قریب ہے کہ اس کے مقابل پر سمندر کے اوپر کے پانی کا زمین سے فاصلہ سمندر کے نیچے کے پانی زمین کے فاصلے کے مقابل پر ایک ایسا فاصلہ ہے جو ایک اہمیت رکھتا ہے ایک اکائی رکھتا ہے۔ پس چاند سمندر کی سطح پر اور طرح اثر دکھا رہا ہے اور سمندر کی تہ میں جو پانی لگا ہوا ہے اس پر نسبتا کمز ور اثر دکھا رہا ہے اور یہ فاصلے ایک اہمیت اختیار کر جاتے ہیں ۔ مگر سورج اتنا بلند ہے کہ اس کے مقابلے پر یہ تھوڑے سے فاصلے کے فرق بالکل مٹ جاتے ہیں کوئی حیثیت ہی نہیں رہتی ۔ آپ جتنی بلندی سے نیچے دیکھیں گے اتنا ہی یہ فان ا یہ فاصلے مٹتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ تھوڑی بلندی سے دیکھیں تو انسان اور موٹر کے درمیان ، درخت گھوڑے اور انسان کے درمیان فرق ۔ درخت اور انسان کے درمیان نمایاں فرق دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی عمارات اور چھوٹی عمارات اور انسانوں کے قدوں کے درمیان فرق دکھائی دیتے ہیں لیکن تھیں ۳۰ چالیس ۴۰ ہزار کی بلندی پر چلے جائیں اگر نظر آئے تو سب ہموار دکھائی دیں گے۔ کوئی فاصلہ کوئی فرق دکھائی نہیں دے گا۔ پس یہ بھی حضوری کے ساتھ تعلق رکھنے والا مضمون ہے۔ اگر آپ خدا کے حضور حاضر ہو کر نماز ادا کر رہے ہیں تو آپس کے فاصلے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتے ۔ اس کو ربی الا علی کہہ رہے ہیں تو اس کے بعد کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ فلاں ۔ پ فلاں مقام پر ہیں اور آپ کا بھائی فلاں مقام پر ہے اور دنیا