خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 750
خطبات طاہر جلداا 750 خطبه جمعه ۲۳ راکتو بر ۱۹۹۲ء بے پرواہی کی علامت ہے خدا تعالیٰ کے حضور صف بندی سے حاضر ہونے کا حکم ہے جس کا مطلب ہے کہ نظم وضبط ہو پتا ہو کہ ایک ایسے عظیم وجود ۔ ایسے عظیم وجود کے حضور حاضر ہو حضور حاضر ہوئے ہیں جس کے سامنے نظم وضبط کی ضرورت ہے۔ یہ بھی اس وجود کی حضوری کا تقاضا ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ سپاہی اگر لائن میں کھڑے ہوں اور آپس میں فاصلے ہوں لائن ٹیڑھی ہو تو ایسے سپاہی کبھی کسی فوج میں قبول نہیں ہو سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو سپاہی بنایا ہے تو روحانی سپاہی بنایا ہے دنیا وی سپاہی نہیں لیکن عملاً روحانی سپاہی بننے کے لئے بھی کم و بیش ویسے ہی اخلاق و آداب اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے دنیا وی سپاہی بننے کے لئے ہوتی ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں مسلمانوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتا ہے صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْ انْ مَّرْصُوص (الصف:۵) کہ یہ صف بندی سے میرے حضور حاضر رہتے ہیں گویا ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے۔ تو خدا تعالیٰ کے سامنے جب حاضر ہونا ہے تو اپنے نظم وضبط کے ساتھ حاضر ہونا ہے اور اس نظم وضبط کا یہ تقاضا ہے کہ آپ صفیں بنائیں، سیدھی بنائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہوں ۔ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں امور سے متعلق واضح نصیحت فرمائی اور جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں اس کا تعلق حضوری سے ہے فرمایا کہ اگر تم خدا کے سامنے ٹیڑھی صفیں لے کر کھڑے ہو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ (مسلم کتاب الصلاۃ حدیث نمبر : ۶۵۴) دلوں کے ٹیڑھے ہونے کا ٹیڑھی صف سے کیا تعلق ہے؟ اس پر اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اگر دلوں میں کبھی ہوگی تو آپ ٹیڑھی صف بنا کر کھڑے ہونگے ۔ دلوں کی کبھی بے ادبی اور بے پرواہی کی کبھی ہے اور قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا - پس آنحضرت ﷺ نے یہی نقشہ کھینچا ہے۔ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ باہر سے دلوں کو جبراً ٹیڑھا کرے گا۔ مراد یہ ہے کہ تمہارا ٹیڑھی صفیں بنانا دل کی کسی کبھی کی علامت ہے اور جیسا کہ خدا کا قانون ہے تمہاری جو چھپی ہوئی کجیاں ہیں اگر تم ان کو سیدھا نہیں کرو گے تو وہ ان کو نمایاں کر کے بڑھا کے تمہارے سامنے لے آئے گا ۔ پس صف بندی اور سیدھی صف بنا نا خدا تعالیٰ کی حضوری کی عظمت کے صلى الله عروسه تقاضوں میں داخل ہے ۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپس میں کندھے ملا کر کھڑے ہو ور نہ بیچ میں شیطان آجائے گا ۔ (ابو داؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۵۷۰) اب وہ شیطان کیا ہے؟ اس پر