خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 749 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 749

خطبات طاہر جلد ۱۱ 749 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء پس جب کہا جاتا ہے کہ سر پر ٹوپی پہنو تو اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ تمہیں یہ خیال رہے کہ تم کسی معزز بزرگ ہستی کے حضور حاضر ہورہے ہو اور ٹوپی ایک ایسا عزت کا نشان ہے جو تمہیں حدیث عطا ہوا ہے خدا کا کرم ہے اور احسان ہے کہ اس نے تمہیں اپنے دربار میں آنے پر تمہیں عزت بخشی ہے۔باقی تمام مسائل اس سے تعلق رکھتے ہیں۔اب آپ ان کی تفصیل نہیں اور ان کو دیکھتے چلے جائیں تو ہر بار بات کی تان یہیں ٹوٹے گی کہ خدا کی حضوری کا تصور ہے۔مثلاً جب نماز کا انتظار ہورہا الله ہوتا ہے تو لوگ مسجد میں بیٹھے آپس میں باتیں شروع کر دیتے ہیں لیکن آنحضرت ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:۔نماز کا انتظار بھی عبادت کا حصہ ہے۔(مسلم کتاب الطہارۃ حدیث نمبر : ۳۶۹) قرآن کریم کی جو آیت میں نے پڑھی تھی اس میں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے وَاَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ مساجد الله کے لئے ہیں۔فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا خدا کے سوا اور کسی کو نہ پکا رو۔پس جب آپ مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو نماز سے پہلے ہی خدا کی حضوری میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں اور خدا کی حضوری کا تصور آپ کی حرکات وسکنات پر اثر انداز ہونا چاہئے ورنہ وہ تصور ہے ہی نہیں پس وہاں آپ کو خاموش اور ادب سے بیٹھنا چاہئے اور پھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہئے۔پس آنحضرت سے اگر چہ ہمیشہ ذکر میں رہتے تھے مگر مسلمانوں کو ذکر کی تعلیم ہمیشہ یا بسا اوقات مسجد کے حوالے سے دی ہے کہ جب مسجد میں آؤ تو ذکر کیا کرو اللہ تعالیٰ کو بہت کثرت سے یاد کیا کرو۔وہاں بے ہودہ حرکتیں کرنا دوڑنا پھرنا ایسی مجالس لگانا جن کا مساجد سے کوئی تعلق نہیں سب منع ہے دینی مجالس کا قیام صلى الله آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے لیکن آپ نے مسجد میں شعروں کی مجالس منعقد کرنے سے منع فرمایا ہے بعض دفعہ لوگ بے احتیاطی میں دینی مشاعرہ کہہ کر مسجد میں مشاعرہ کر لیتے ہیں لیکن مشاعرہ مشاعرہ ہی ہے اور جب آنحضور ﷺ نے منع فرمایا ہے تو وہاں یہ تفریق نہیں کی کہ دینی مشاعرہ نہ کیا جائے بلکہ فرمایا کہ مسجدوں کو شعروں کی مجالس کے لئے استعمال نہ کرو۔پس یہ سارے آداب ہیں جن کا اسی روح سے تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی خاطر مساجد قائم کی گئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی کو مسجد میں بلند کرنا چاہئے۔پھر بسا اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ صفیں سیدھی نہیں ہوتیں اور بیچ میں فاصلے ہیں یہ بھی ایک