خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 745
خطبات طاہر جلد ۱۱ 745 خطبه جمعه ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء بنیادی فلسفہ وہی ہے کہ ٹوپی کا عزت سے تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے حضور حاضر ہونے والوں کو عزت بخشی ہے اور یہ ادب سکھایا ہے کہ تم عزت کے مقام سے میری طرف آیا کرو اور اپنی عزت کا مقام لے کر میری طرف پہنچا کرو اور میرے سامنے بھی عزت پاؤ۔اتنا بڑا مرتبہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے جسے بحیثیت مرتبہ دنیا کی تمام تہذیبیں پہچانتی اور جانتی ہیں اور اعتراف کرتی ہیں کہ سر پر کچھ اوڑھنا عزت کا نشان ہے تو کیوں مغربی تہذیب کے پیچھے چل کر اپنے سروں کی عزتیں اتارتے ہیں۔خدا نے جس کو عزت دی ہے اس عزت کو قبول کرنا، اس کا احترام کرنا، اسے سر آنکھوں پر لگانا، چوم کر اپنے سر پر رکھنا یہ احترام کا تقاضا ہے۔پھر یہی وہ بچے ہیں جن کے متعلق مجھے تجربہ ہے کہ اگر مجھے کبھی ملنے آئیں تو اپنی ٹوپی نہ ہو تو ٹوپی مانگ کر لے آتے ہیں اور مانگی ہوئی ٹوپی نظر آتی ہے کوئی کان پر ٹکی ہوتی ہے تو کوئی سر کی چوٹی پر بیٹھی ہوتی ہے صاف پہچانی جاتی ہے کہ اپنی نہیں مگر دل کی گہرائیوں میں احساس ضرور ہے کہ جس سے ملنے جائیں اس سے ملنے کے آداب پورے کرنے چاہیں۔تو بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کے لئے مساجد میں آیا جاتا ہے اس خیال کو پیش نظر رکھیں تو یہ خیال ساری زندگی پر چھا جاتا ہے۔ایک عارف باللہ اور ایک عام آدمی کی زندگی میں یہی فرق ہے کہ ایک عام آدمی جب مسجد سے اللہ تعالیٰ کی حضوری کا سبق لیتا ہے تو اسے وہیں چھوڑ کر باہر نکل جاتا ہے لیکن ایک عارف باللہ اس حضوری کے تصور کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیتا ہے چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو نظم آپ کے سامنے بار بار پڑھی جاتی ہے۔اس میں یہ مصرع بہت ہی پیارا اور گہرا ہے جو ہر مصرعے کے بعد آتا ہے۔سبحان من یرانی، سبحان من یرانی یعنی پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے اس دیکھنے کا مضمون بہت وسیع ہے۔اس لئے میں نے اسے گہرا کہا ہے۔پہلا حصہ یہ احساس ہے کہ میں خدا کی نظر میں ہوں۔یہ احساس انسان کو ہر قسم کے گناہوں سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔دنیا کا کوئی مجرم اگر یہ معلوم کر لے کہ میں لازماً قانون کی نظر میں آرہا ہوں تو شاید ہی کوئی پاگل ہو گا جو جرم کرے گا۔اور جب تک قانون کی آنکھ اسے دیکھتی ہے وہ جرم سے باز رہتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ انسان کیا اور انسان کی آنکھ کیا میرا بھی اس حیثیت سے کوئی ایسا مقام نہیں ہے کہ میری وجہ سے بعض لوگ بعض اخلاق کو اختیار کریں اور بعض بد اخلاقیوں سے بچیں۔اصل روح کو