خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 738 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 738

خطبات طاہر جلدا 738 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء میں لوگوں سے چھپ کر کرتا ہوں اور جو کچھ میں اُن کے سامنے کرتا ہوں اُن میں سے میرے ہر عمل کو اپنی رحمت اور مغر اور مغفرت سے ڈھانپ لے۔ (نسانی کتاب عشرۃ النساء حدیث نمبر ۳۹۰۲) کیسی عجیب دعا ہے۔ اتنا عظیم عارف باللہ وہ انسان تھا، وہ تمام نبیوں کا سردار بنایا گیا ، تمام زمانوں کا سردار بنایا گیا۔ فرماتے ہیں جو میں چھپ کر کرتا ہوں ہو سکتا ہے اُس میں بھی کوئی ریاء کا نعوذ باللہ من ذلک پہلو ، کوئی ایسی بات ہو جو تیرے حضور پسندیدہ نہ ہو اس لئے میں تو یہ التجاء کرتا ہوں کہ صرف میرے ظاہر نہیں میری چھپی ہوئی عبادتوں پر بھی اپنی رحمت اور مغفرت کی چادر ڈال دے اور اُسے اپنی ستاری کے پردے میں چھپالے۔ آنحضرت دل کی گہرائی تک خلوص ہی خلوص تھا۔ جھوٹ تو در کنار ، جھوٹ کی کسی دور دراز سے اثر کا بھی کوئی شائبہ آنحضرت ﷺ کی نیتوں کی آماجگاہ پر نہیں پڑا کرتا تھا یا دل پر نہیں پڑتا تھا۔ انکساری کا عجیب عالم ہے صلى الله کہ آنحضور ﷺ اپنے رب کے حضور جھکتے ہوئے عرض کر رہے ہیں اے خدا! میری وہ عبادتیں جو میں ظاہر میں لوگوں کے سامنے مجبوراً کرتا ہوں تو نے حکم دیا ہے اور وہ عبادتیں جو میں چھپ کر کرتا ہوں ان دونوں پر صلى الله عروسه یکساں اپنی رحمت اور مغفرت کی چادر ڈال دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں۔ میں نے حضور ا کو جب نماز میں اس طرح دعا کرتے دیکھا تو اپنی حالت پر افسوس کرتے ہوئے لوٹ آئی۔ میں کیا کبھی تھی صلى الله اور کیا ہو رہا ہے۔ کیسا ظن کیا میں نے اپنے آقا حضرت محمد مصطفی پر کس کی محبت میں نکلے تھے اور میں نے کیا سمجھا کہ کس کی محبت میں نکلے ہوں گے؟ پھر آنحضرت ﷺ کی یہ عادت تھی ہر لمحہ نماز کا انتظار رہتا تھا، ہر وقت طبیعت نماز کے لئے بے چین رہتی تھی ، دل مسجد میں ہی پڑا ہوا تھا۔ حضرت بلال کو فرمایا کرتے تھے۔ يا بلال ! اقم الصلاة ارحنا (ابوداؤد کتاب الادب حدیث نمبر : ۴۳۳۳) اے بلال ! نماز کے ذریعے ہمیں راحت تو پہنچاؤ کیونکہ وہ اذان دیا کرتے تھے۔ مراد یہ تھی کہ وقت ہو تو اذان دیا کروتا کہ ہمیں باجماعت نماز کی توفیق ملے اور اس طرح دل کو راحت پہنچے۔ آخری بیماری کے دوران حضرت اقدس محمد مصطفی کا نمازوں سے عشق کس شان کے ساتھ ظاہر ہوا ہے اُس کی دو مثالیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی ﷺ میں لکھا ہے۔ صلى الله صلى الله حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور تکلیف بڑھ گئی تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت چاہی کہ بیماری کے ایام میرے گھر میں گزاریں صلى الله ریں یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ۔ اُنہوں نے حضور ﷺ کو اجازت دے دی تو آپ