خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 737
خطبات طاہر جلدا 737 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء آنحضور ﷺ کی اپنی نماز کی کیفیت کیا تھی ؟ اس سلسلے میں بھی میں آپ کو چند احادیث سناتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو وہ کون سی نمازیں ہیں جو دوسروں کے دیکھنے والوں میں جاگزین ہو جاتی ہیں۔ ایسا مستقل نقش بن جاتی ہیں ، وہ نقش اُن کی زندگی کی عادات میں بدل جاتا ہے، وہ اگر اتا ہے، وہ اُن کی فطرت رت ثانیه بن جاتا ہے۔ ایسی نمازیں پڑھنے کی ضرورت ہے گھروں میں ۔ اگر مائیں ایسی نمازیں پڑھیں جنہیں پنجابی میں ٹرخانہ کہا کرتے تھے اُردو میں بھی شاید ٹرخانہ کہتے ہوں مجھے علم نہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں مسجد اقصی نماز پڑھنے گیا تو ایک چھوٹا سا لڑکا اتنی تیز نماز پڑھ رہا تھا کہ جیسے پنکھا چل رہا ہو۔ وہ ٹکا ٹک ٹکا ٹک یں لگائیں اور فارغ ہو کر چل پڑا۔ مجھے نظر آیا بعد میں، میں نے کہا تم یہ کیا کر رہے تھے اللہ میاں نوں ٹرخانہ ای اے۔ فرض پورا کرنا ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے ظاہری طور پر اپنے آپ کو پیش کر دینا بس۔ میرا کام ہو گیا خدا کو ٹرخا کوئی نہیں سکتا ، اپنے آپ کو ٹر خاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو خدا کے بندوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اُن کا کیا ہوتا ہے وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ (البقرہ: ۱۰) اگر نمازوں میں تم خدا کو ٹر خاؤ گے تو تم اپنی نسلوں کو ٹر خار ہے ہو گے، اپنے مستقبل کو ٹر خار ہے ہو گے، اپنی عاقبت کو ٹرخا رہے ہو گے، کوئی خدا کوٹر خا نہیں سکتا یہ بات الٹتی ہے تم پر الٹتی ہے جو خدا اور خدا والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پس نمازیں اس طرح سنوار کر پڑھیں جس طرح حضرت اقدس محمد اللہ مصطفی پڑھا کرتے تھے پھر اس مسجد کا حق ادا ہو گا اور گھر گھر میں اس مسجد کا حق ادا ہوگا۔ پھر خدا آپ کو توفیق بخشے گا کہ آپ بستی بستی میں مساجد بنائیں گے اور خدا کی محبت اور پیار کی نظریں ہر اُس مسجد پر پڑا کریں گی جو احمدی متقی کو بنانے کی توفیق عطا ہو۔ صلى آنحضرت کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میری آنکھ کھلی تو عروسه صلى الله صلى الله میں نے حضور ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا مجھے خیال آیا کہ حضور ﷺ مجھے چھوڑ کر کسی اور بیوی کے پاس چلے صلى الله صلى الله گئے ہیں۔ پھر میں حضور ﷺ کی تلاش کرنے لگی تو کیا دیکھتی ہوں حضور رکوع میں ہیں ایک ویران کی عروسه علی جگہ میں اندھیری رات تھی ، اس لئے میں کہتا ہوں اندھیری رات تھی کہ آگے مضمون بتارہا ہے، حضور نماز میں، رکوع میں یا شائد آپ اُس وقت سجدہ کر رہے تھے یعنی دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ آواز سے پتا چلا کہ کیا ہو رہا ہے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ ! تو اپنی تمام تعریفوں کے ساتھ ہر قسم کی بزرگی کا حامل ہے تو ہی میرا رب ہے تیرے سوا اور کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اے اللہ جو کچھ