خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 736 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 736

خطبات طاہر جلد ۱۱ 736 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء متنفر نہ ہوں۔نفل کے معاملے میں تو کوئی سخی نہیں ہو سکتی۔نفل کی تحریک آپ کی خوش اداؤں سے ہوگی۔نفل تبھی آپ کے اولاد میں قائم ہوں گے جب آپ کے بچے آپ کو اس رنگ میں نفل پڑھتے دیکھیں گے تو وہ یادیں اُن کے دلوں پر جاگزین ہو جائیں گی۔اُن کا دل چاہے گا کہ ہم بھی ایسا کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے بچوں میں یہ فطرت پیدا کی ہے ایک یہ طبعی رجحان رکھا ہے کہ اپنے ماں باپ کو جو چیز خاص انہماک سے اور پیار سے کرتے دیکھتے ہیں تو اسی طرح شروع کر دیتے ہیں۔ہم نے اپنے گھروں میں بڑوں کو دیکھا ہے کہ بچے شروع سے ہی ساتھ نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں ، چندے دیتے ہیں اور پیار اور اخلاص کا اظہار اپنے معصومانہ رنگ میں ہمیشہ کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اُن بچوں کو توفیق دی کہ وہ نماز پر قائم ہوئے اور دوسروں کو نماز پر قائم کرنے والے بنے پس اپنے ہر گھر میں نماز کے قیام کے لئے محنت کریں اور دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹادیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ! ضرور بتائیے۔آپ نے فرمایا سردی وغیرہ کی وجہ سے، دل نہ چاہنے کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کر لو اور مسجد میں دور سے چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔یہ بھی ایک قسم کا رباط ہے یعنی سرحد پر چھاؤنی قائم کرنا۔(مسلم کتاب الطہارت حدیث نمبر: ۳۶۹) قرآن کریم نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ رابطوا (ال عمران : ۲۰۱) کہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو۔یہ انتظار نہ کرو کہ تمہارا دشمن دل تک آپہنچے تب تم دفاع کی کوشش شروع کرو جو سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اُن کی سلطنتیں ، اُن کے ممالک محفوظ رہتے ہیں۔پس فرمایا کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے کا مضمون میں تمہیں سمجھاؤں وہ یہ ہے کہ تم ہر حالت میں نماز کو قائم کرو۔سخت سردی میں انسان کا دل چاہتا ہے کہ چلو تیم کرلوں گرم پانی میسر نہیں ہے اور اُس زمانے میں تو نہیں ہوا کرتا تھا اکثر۔قادیان میں بچپن میں ہم نے دیکھا ہے۔یہ آج کل کے Hot Water Tapes یہ کہاں ہوا کرتیں تھیں۔سخت ٹھنڈا پانی جو بعض دفعہ کورے جم بھی جایا کرتا تھا۔اُسی سے ہم سب وضو کیا کرتے تھے۔تو آنحضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ جب ایک تکلیف اور امتحان اپنی انتہا کو پہنچا ہو اس وقت اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا۔یہ ہے سرحدوں پر گھوڑے باندھنا اور مثال یہ دی کہ سخت ٹھنڈے پانی میں دل نہ چاہتے ہوئے بھی ٹھنڈے پانی سے اللہ تعالیٰ کی خاطر خوب سنوار کر وضو کرو پھر نماز پڑھنے جاؤ پھر ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار شروع کر دو۔