خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 735 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 735

خطبات طاہر جلدا 735 خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۹۲ء بندے کے کچھ نوافل بھی تو ہیں اگر نوافل ہوئے تو فرضوں کی کمی اُن نوافل کے ذریعے پوری کر دی جائے گی۔ اسی طرح اُس کے باقی اعمال کا معائنہ ہوگا اور اُن کا جائزہ لیا جائے گا۔“ (ترمذی کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۳۷۸) پس قیام نماز کے ساتھ کچھ لوازمات ہیں جو نماز کی مرکزی روح کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ وہ نوافل اور تہجد کی نمازیں ہیں پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی آئندہ نسلوں میں نماز قائم رہے اور پوری شان اور حفاظت کے ساتھ قائم رہے تو اس کے ارد گرد وہ فصیلیں بھی کھڑی کریں جو نوافل کی فصیلیں ہیں ان سے نماز پر ضرب نہیں آئے گی ۔ اگر کبھی کمزوری دکھائیں گے تو نوافل کی حد تک اثر رہے گا لیکن فرائض قائم رہیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ صرف گھروں میں نماز با جماعت کے قیام کی عادت ہی نہ ڈالی جائے بلکہ نوافل کی روح کو ترویج دی جائے اور اپنے بچوں کو نفل پڑھنے سکھائے جائیں۔ کبھی آدھی رات کو اٹھا کر اُن کو تہجد کے مزے میں شامل ہونے کی بھی توفیق عطا ہو تو رفتہ رفتہ اُن کو چسکے پڑیں گے، رفتہ رفتہ اُن کو عادت ہوگی اور بڑے ہو کر یہی یادیں ہیں جو اُن کی پاکباز زندگی کی شکل میں ڈھل جائیں گی۔ پس چھوٹے بچوں کی حفاظت کے لئے خصوصیت سے یہ بہت ضروری ہے اور آپ میں سے وہ بڑے بھی جواب تک نماز کے قیام سے محروم ہیں میں اُن کو متنبہ کرتا ہوں کہ نماز کا قیام از بس ضروری ہے۔ نماز قائم ہو گی تو جماعت احمد یہ قائم رہے گی اگر نماز گری تو جماعت احمد یہ گر جائے گی اور کوئی چیز اسے دوبارہ قائم نہیں کر سکے گی اس لئے نمازوں کی حفاظت کریں۔ وہ مسجد جو یہاں بنائی گئی ہے اس مسجد تک تو لوگ دور دور سے کبھی کبھی پہنچا کریں گے لیکن گھر کی مسجد میں تو ہر انسان پہنچ سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنا گھر بنایا تو بیت الدعاء بنائی اور صحابہ میں یہ رواج تھا کہ اپنے گھروں میں چھوٹی سی مسجد بنا لیا کرتے تھے تا کہ وہ لوگ جو مسجد تک نہ جا سکیں وہ وہاں نماز پڑھ لیا کریں۔ مجھے یاد ہے دارالانوار میں ہمارے نانا کا گھر تھا ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کا اُنہوں نے گھر میں چھوٹی سی مسجد بنائی ہوئی تھی۔ جب وہ معذور ہو گئے تو مسجد تک نہیں جا سکتے تھے اُسی مسجد میں نماز پڑھاتے تھے یا پھر اپنے بچے کے ذریعے اُس کو آگے کھڑا کر کے آپ با جماعت نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ تو یہ بہت ہی پاکیزہ سنت ہے کہ اپنے گھروں میں کوئی جگہ عبادت کے لئے مخصوص کر دی جائے تو اس سے باجماعت نماز کی Institution یعنی یہ جو نظام و نظام ہے یہ زندہ رہے گا اور اس ۔ ا اور اس کے علاوہ خدا کے فضل سے نوافل کی بھی تحریک کی جاتی رہے۔ پیار اور محبت کے ساتھ اس طرح کے دل آمادہ ہوں،