خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 734
خطبات طاہر جلد اا 734 خطبه جمعه ۱۶ راکتو بر ۱۹۹۲ء صلى الله جہاں گھروں گھروں میں تالاب بنائے جاتے ہیں اور بہت خوبصورت تالاب جن کو دیکھ کر انسان کی ظاہری آنکھ مسحور ہو جاتی ہے لیکن مومن کو ایک چیز سے ملتی جلتی چیز کا خیال آنا چاہئے ، اُس کو سوچنا چاہئے کہ یہ دنیا والے لوگ دنیا کے لحاظ سے کتنے خوبصورت اور تسکین والے گھر بناتے ہیں اور دنیا کے لحاظ سے روزانہ نہانے اور صاف ستھرا ہونے کا کیسا کیسا انتظام کرتے ہیں ۔ ہم محمد مصطفی ﷺ کی جماعت ہیں کیا عروسه ہمیں ان سے نصیحت نہیں پکڑنی چاہئے کہ ہمارے گھروں میں پانچ وقت صفائی کا انتظام نہیں ہونا چاہئے اور وہ جاری و ساری کوثر کے چشمے نہیں بہنے چاہئیں جو روحوں کو دھوتی اور پاک اور صاف کرتی ہیں اور خدا کے حضور حاضر ہونے کے لئے تیار کرتی ہیں۔ وہ زینت آپ نے خود اپنے لئے اختیار کرنی ہے پھر مسجدوں کوزینت کو زینت بخش سکیں گے۔ اگر آپ کو زینت عطا نہ ہوئی تو یہ مسجد بے زینت رہے گی اور کتنے افسوس کا مقام ہو گا کہ ظاہری طور پر آپ اتنا خرچ کرکے، اتنی تکلیفیں اٹھا کر خدا کا ایک گھر بنائیں جو بظاہر ؟ طاہر نمازیوں سے آباد ہو مگر خدا کی نظر خدا کی نظر میں وہ ویران ہو۔ خدا نہ کرے کبھی جماعت احمد به احمدیہ پر یہ و احمدیہ پر یہ وقت آئے کہ یہ منظر جماعت احمد یہ پر صادق آئے۔ آنحضرت ﷺ نے تو یہ نقشہ کھینچتے ہوئے آخرین کے زمانے کے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کی تصویر کھینچی ہے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ ایک ایسا وقت آنے والا ہے۔ ان یاتی علی الناس زمان لایبقی من الاسلام الا اسمه ولا يبقى من القرآن الا رسمه مساجد هم عامرة وهي خراب من الهدى (مشكوة ناب العلم والفضل صفحه: ۳۸) افسوس کہ ایک ایسا زمانہ آنے نے و والا ہے کہ جب اسلام کا صرف نام رہ جائے گا، جب قرآن صرف خوبصورت تحریروں میں ڈھالنے کے لئے رہ جائے گا، مساجد بظاہر آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ۔ علماء هم شر من تحت اديم السماء اس بد نصیب دور کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔ پس : ۔ پس جماعت احمدیہ کے لئے یہ بڑی بھاری نصیحت ہے اگر تقویٰ کے ذریعے سے آپ نے اپنی مسجدوں کو آباد نہ کیا تو ظاہری طور پر اگر مسجدیں آباد ہوئیں تو خدا کی نظر میں وہ خراب من الھدی ہی رہیں گی ۔ خدا کرے کہ ہماری مسجدیں ہمیشہ خدا کی نظر میں آبادر ہیں ۔ آنحضرت نے ایک موقع پر فرمایا: ” قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے۔ اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور اُس نے نجات پالی۔ اگر یہ حساب خراب ہے ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔ اگر اُس کے فرضوں میں کوئی کمی ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے