خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 710
خطبات طاہر جلد ۱۱ 710 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء فرض پاکستان بحر کی اور ایران کا ہے۔یہ تینوں حکومتیں مل کر یہ پروگرام بنا ئیں بجائے اس کے کہ ہر ایک اپنے اپنے نہج پر الگ الگ مدد یا تیاری کا سلسلہ شروع کرے اور یہ کرنا نہ صرف یہ کہ اسلام کے منشاء کے عین مطابق ہے بلکہ دنیا کے آج کے قوانین اور United Nations کے قوانین کے بھی بالکل مطابق ہے اور دنیا کی کسی طاقت کو اس پر اعتراض کا حق نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے افغانستان کے معاملہ یہ مثال پوری طرح قائم ہو چکی ہے۔زیادہ سے زیادہ ان کو یہ خوف ہوگا کہ امریکہ اعتراض کرے گا۔امریکہ کیسے اعتراض کرے گا اُس نے تو خود جہاد کے نام پر افغانستان کی مدد کی ہوئی ہے۔امریکہ کی مدد کے سہارے تو پاکستان نے یہ سلسلہ آگے چلایا تھا اور پاکستان کی سرزمین میں جہاد کرنے والے تیار ہوتے تھے اور افغانستان پر حملہ کیا جاتا تھا۔یہ جب نظیر قائم ہوگئی توUnited Nations کے کسی ممبر نے کسی بڑی یا چھوٹی حکومت نے اس پر اعتراض نہیں کیا اور سب سے طاقتور حکومت جو United Nations کی ممبر ہے وہ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ ذمہ دار تھی۔تو آج کس کا حق ہے کہ اس پر اعتراض کرے اس لئے عقلاً ، قانونا، انصاف ، رواجاً کسی کا حق نہیں ہے۔تو پھر ڈرتے کس سے ہو؟ اندرونی خوف کے کچھ تقاضے ہوں جو ہمارے علم میں نہ ہوں تو الگ بات ہے ، ورنہ ظاہری طور پر جب خدا کا منشاء بھی اور دنیا کی طاقتیں بھی اس تحریک پر عملاً بات کر چکی ہوں جس کی میں تمہیں توجہ دلا رہا ہوں تو پھر کسی خوف کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر خوف ہو بھی تو یہ وقت نہیں ہے کہ جب خوف کا اظہار کیا جائے کہ پوری مسلمان قوم کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے اور ایسے خوفناک مظالم توڑے جا رہے ہیں کہ اُن کے بیان کی بھی طاقت نہیں ہے۔اگر میں بیان کروں تو مجھے اپنے جذبات پر قابو نہیں رہے گا۔آپ اخباروں میں خبریں پڑھتے ہیں، ٹیلی ویژن پر پروگرامز دیکھتے ہیں، جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اگر پاکستان کی حکومت ایسے جہاد کا اعلان کرتی ہے جس میں پاکستانی بھی شریک ہوں تو میں تمام احمد یوں کو تحریک کرتا کہ وہ بڑھ کر اس میں حصہ لیں اور بتائیں کہ ہم اسلامی جہاد میں کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں بلکہ صفحہ اول میں آگے بڑھ کر لڑیں گے اور یہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔جب بھی اسلام کے تقاضے کسی جہاد کا اعلان کرتے ہیں یا جہاد کی تحریک اسلامی تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے تو جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہی بلکہ ہمیشہ آگے بڑھ کر قربانیاں پیش کی ہیں۔پس اس موقع پر بھی جماعت احمدیہ کے لئے