خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 709
خطبات طاہر جلد ۱۱ 709 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء پس پاکستان ہو یا ترکی ہو یا ایران ہو اُن کا اولین فرض ہے کہ بوسنیا کے مہاجرین کو قبول کریں بجائے اس کے کہ ان کو یورپ میں جگہ جگہ غیر اسلامی حکومتوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا جائے۔ان کا احسان ہے جو پناہ دے رہی ہیں، غیر اسلامی حکومتوں کی پناہ لینا جرم نہیں بلکہ سنت سے صلى الله ثابت ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی یہ ہے کے زمانے میں پہلی ہجرت حبشہ کی طرف ہوئی جہاں ایک غیر اسلامی عیسائی حکومت تھی، اس لئے یہ بات خوب کھول کر بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی اعتراض نہیں ہے کہ غیر اسلامی ممالک میں وہ پناہ لیں۔اعتراض صرف یہ ہے کہ مسلمان ممالک کا اولین فرض ہے کہ نہ صرف اُن کو پناہ دیں بلکہ جہاد کی تیاری کے سلسلہ میں اُن کی ہر طرح مدد کریں۔پاکستان بڑے دعوے کرتا ہے کہ ہم نے افغانستان کے جہاد میں عظیم الشان قربانیاں دیں اور اپنی سرزمین ان کے لئے پیش کر دی۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ منتیں کیا تھیں۔ہمیں تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کی رضا کی خاطر، امریکہ کی تائید سے ، وہ زمین اُن کے سامنے پیش کی گئی اور جب تک امریکہ کی مدد شامل حال تھی وہ جہاد جاری رہا، جب امریکہ نے ہاتھ اُٹھالیا تو پاکستان نے بھی ہاتھ اُٹھا لیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ سیاسی دنیا وی تقاضے تھے جن کی خاطر مدد دی گئی ہے۔لیکن بیچ میں کچھ نیک لوگوں کی نیک نیتی بھی ہوگی۔اس میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ جب ایک عام جہاد شروع ہوتا ہے تو بہت سے لوگ محض اللہ اس میں شامل بھی ہو جایا کرتے ہیں اس لئے ہم کوئی عمومی فتویٰ نہیں دے سکتے کہ اُس جہاد میں جو شامل تھے اُن کے دنیا کے تقاضے تھے، دنیا کی خاطر انہوں نے کام کئے۔پاکستانی فوج میں بھی بہت سے ایسے جوان ہوں گے جنہوں نے خالصتہ اللہ کسی رنگ میں اس میں حصہ لیا اور قربانیاں پیش کیں۔پس ایسے لوگ تو یقیناً اللہ کی جزا پائیں گے۔مگر امتحان کا وقت اُس وقت آتا ہے جب ایک ہی قسم کی صورت حال دوبارہ پیدا ہو اور دوسری صورتِ حال میں بات کھل جائے اور ٹنگی ہو جائے۔پس اگر امریکہ کی رضا حکومت پاکستان کے پیش نظر نہیں تھی اور خدا کی رضا تھی تو آج خدا کی رضا کا پہلے سے بڑھ کر تقاضا ہے کہ بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کی اُس سے بڑھ کر مدد کی کوشش کرو جو تم نے اپنے افغان بھائیوں کی کی تھی۔وہاں ان کو بلایا جائے ، ان کو خوش آمدید کہا جائے ، ان کے یتامی کو ایسے خاندانوں میں تقسیم کیا جائے جو محبت کے ساتھ ، پیار کے ساتھ ، ماں باپ کا حق ادا کرسکیں۔اور پھر ان کے جوانوں کو فوجی تربیت دی جائے ، ہر قسم کی مدد دی جائے اور اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ اوّلین