خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 708 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 708

خطبات طاہر جلد ۱۱ 708 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء ہے مگر ہے کہ خدا نزدیک ہے کہ مکا۔تو جہاں اپنے مطالب دکھائی دیں تو وہاں منگا نزدیک دکھائی دیتا ہے اور خدا دور دکھائی دیتا ہے۔اسلامی جہاد انفرادی طور پر شرائط کے بغیر نہیں ہوسکتا اور کسی ایسی سرزمین پر نہیں ہوسکتا جس زمین کا قانون وہاں کے رہنے والوں اور باشندوں کو اس کی اجازت نہ دے اس لئے وہ لوگ جو امریکہ میں مسلمان بستے ہیں وہ مجبور ہیں ان کے متعلق یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ خدا کی بالا دستی کو ترک کر کے دنیا کی بالا دستی کو قبول کر رہے ہیں کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی کہ ملکی قانون کے خلاف بغاوت کرو اور پھر جہاد کرو۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی ہو نے مکہ میں رہتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہیں دی۔ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہے۔تمام ظلم کی تاریخ میں جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں بسنے والے مظلوموں کو اجازت دی ہو کہ تم یہیں رہو اور ان کے بالا قانون کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے خلاف تلوار اُٹھاؤ۔ہجرت کا حکم اس لئے ہے کہ جب تم ایک ظالم حکومت کے تابع ہو، اگر تم جہاد کرنا چاہتے ہو تو تمہارا پہلا فرض ہے کہ وہاں سے نکلو اور پھر ایسے آزاد علاقہ میں جہاں وہاں کے قوانین تمہیں اجازت دیتے ہوں یا قوانین خود تمہارے قبضہ قدرت میں ہوں وہاں اس کا انتظام کرو۔پس یہ اولین فرض مسلمان حکومتوں کا ہے۔امریکہ میں بسنے والے مسلمان یا یورپ میں بسنے والے مسلمان یا ایسے ممالک میں بسنے والے مسلمان جہاں کے قانون ان کے اس قسم کی جدوجہد کی اجازت نہیں دیتے وہ مبرا ہیں اور قرآن کریم اور سنت کے مطابق ان پر کوئی حرف نہیں لیکن مسلمان حکومتوں پر ہے۔اُن کا فرض ہے کہ وہ اپنی زمین کو ان کے جہاد کے لئے پیش کریں اور کثرت کے ساتھ بوسنیا کے مسلمانوں کو دعوت دیں ، وہاں ان کو پناہ دیں، وہاں ان کی تربیت کریں اور ان کی ہر صورت میں مدد کریں تا کہ وہ اُس سرزمین کو طاقت کے زور سے واپس لیں۔جس سرزمین کو محض از راہ ظلم طاقت کے زور سے ان سے چھینا گیا ہے اور اس کا چھینے والوں کو کوئی حق نہیں تھا۔اور اختلاف کی بنا اسلام ہے ،خدا کا نام ہے۔عزت بیگ، جو بوسنیا کے مسلمان صدر ہیں ان کے خلاف جتنی نفرت کی مہم چلی ہے اور جو ظلم وستم کا سلسلہ جاری ہوا ہے، یہ اس بنا پر ہے کہ انہوں نے جو Election جیتا بوسنیا کا وہ اسلام کے نام پر جیتا ہے اور شروع سے آخر تک جھگڑا ہی اسلام کا ہے۔