خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 704
خطبات طاہر جلدا 704 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء فلاں سے محبت نہیں کرتا ، فلاں سے محبت نہیں کرتا تو مراد یہ ہے کہ میں اسے خوبیوں سے عاری دیکھتا ہوں۔چاہتا بھی ہوں تو اس سے پیار نہیں رکھ سکتا۔تو وہی مضمون ہے کہ جس طرح بھوکے کے گھر کے سامان پک جاتے ہیں ، اس کے تن بدن کے کپڑے پک جاتے ہیں اور بھوک اس کا لباس بن جاتی ہے۔اس طرح خیانت اندرونی طور پر انسان کا حال کرتی ہے۔کوئی رونق اندر باقی نہیں رہنے دیتی ساری خوبیاں برباد ہو جاتی ہیں۔یہ خیانت کے آخری مقام کا ذکر ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے یہاں اس موقع پر خائن نہیں فرمایا اس آیت میں دوسری آیتوں میں خائن کا ذکر ہے یہاں فرماتا ہے لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا أَثِيمًا حد سے بڑھے ہوئے خائن جو خیانت میں اپنے آخری مقام تک پہنچ جاتے ہیں۔ان میں پھر خدا کوئی خوبی نہیں دیکھتا، کوئی ایسی بات نہیں دیکھتا کہ خدا ان سے تعلق قائم رکھ سکے۔يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ هِ لوگوں سے چھپتے پھرتے ہیں۔اللہ سے چھپ نہیں سکتے۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے اسے باطن کی بیماری اسی لئے قرار دیا ہے۔باطن کی بیماری کئی رنگ میں ہے ایک یہ بھی رنگ ہے کہ خائن دنیا کی نظر سے چھپتا ہے اپنی بات کو چھپاتا ہے اور فرمایا کہ چھپتے ہوں گے مگر وہ اللہ کی نظر سے نہیں چھپ سکتے۔وَهُوَ مَعَهُمْ اِذْيُبَيِّتُونَ ( النساء ۱۰۹) وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب ایسی رات گزارتے ہیں جس میں ایسی باتیں کرتے ہیں جو خدا کو پسند نہیں۔وَكَانَ اللهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا اور اللہ خوب اچھی طرح گھیرے ہوئے ہے ان باتوں کو جو وہ کرتے ہیں۔یعنی چاروں طرف سے وہ خدا کے گھیرے میں ہے اس سے نکل نہیں سکتے ، اس سے بچ نہیں سکتے۔تو خیانت کا مرض بہت ہی گہرا اور خطر ناک مرض ہے یہ عمومی مضمون ہے جو بیان ہوا اس کے بعد تفصیلی مضمون بھی قرآن کریم میں بیان ہوتا ہے کہ کن کن موقعوں پر، کس کس محل پر انسان خیانت کرتا ہے اور پھر بالآخر خوانا کس شکل میں بنتا ہے۔اب تو وقت ختم ہورہا ہے میں انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ جمعہ میں اس مضمون کو پھر آگے بڑھاؤں گا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ باقی پاکستان اور جاپان اور انڈونیشیا اور افریقہ کے ممالک اور ہندوستان وغیرہ وغیرہ میں جو احمدی دوبارہ اس خطبے کو براہ راست سن یا دیکھ رہے ہیں۔ان سب کو میں اپنی طرف سے بھی اور تمام جماعت انگلستان کی طرف سے بھی نہایت محبت بھر اسلام پہنچا تا ہوں۔