خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 699 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 699

خطبات طاہر جلدا 699 خطبه جمعه ۲ اکتوبر ۱۹۹۲ء کپڑوں تک کے بیچنے کی باری آجاتی ہے اور بھوکے لوگوں کو اپنے کپڑوں کو سنبھالنے کی ہوش ہی نہیں ہوتی نہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ کپڑوں کی طرف توجہ کریں اور ان کی ضرورتیں پوری کر سکیں۔تو قرآن کریم نے جو لِباسَ الْجُوعِ فرمایا واقعہ بھوک لباس بن جاتی ہے کہ ایک ایسی فلاکت کا لباس جو دیکھنے میں دکھائی دیتا ہے۔بھوکے افریقہ کو دیکھیں، ان کی تصویریں دیکھیں تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ بھوک کا لباس سے کیا تعلق ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ بھوک جوتمہارے ظاہر کا حال کرتی ہے خیانت وہی تمہارے اندرونے کا حال کر دیتی ہے۔خیانت کی جس کولت پڑ جائے وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کی دوسری تمام حسنات کھائی جاتی ہیں۔گویا ایک ایک کر کے اس کی نیکیاں پک رہی ہیں اور خیانت کی بھوک مٹانے کیلئے تمام خوبیاں اس کی تباہ و برباد ہو جاتی ہیں۔جس میں خیانت آجائے اس میں ساری دوسری برائیاں، مراد یہ ہے کہ رفتہ رفتہ خیانت انسانی اندرون پر ایسا قبضہ کر لیتی ہے کہ اس کی تمام صلاحیتیں ختم کر دیتی ہے اس میں تمام برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں، تمام نیکیاں اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔تو یہ وجہ ہے جو آنحضور ﷺ نے جھوٹ کے بعد خیانت کو سب سے زیادہ مہلک بیماری قرار دیا ہے اور جھوٹ اور خیانت کے متعلق صلى الله فرمایا کہ اگر یہ اکٹھے ہو جائیں تو پھر مومن کہلا ہی نہیں سکتا، اس کا ایمان ہی باقی نہیں رہتا۔قرآن کریم میں خیانت کے مختلف پہلو بیان فرمائے ہیں اور کوئی پہلو ایسا نہیں ہے خیانت کا جس پر روشنی نہ ڈالی ہو۔عجیب کتاب ہے کہ ہر مضمون کے ظاہر کو پیش کرتی ہے اور باطن کو بھی پیش کرتی ہے، بڑی چیزوں کو بھی بیان کرتی ہے، چھوٹی باریک در بار یک چیزوں کو بھی بیان کرتی ہے اور کوئی علم کا ایسا مضمون نہیں ہے جس کی انسان کو ضرورت ہو اس پر قرآن کریم نے تفصیل سے گہری روشنی نہ ڈالی ہو۔یعنی وہ علم جو انسان کی روح کی نجات کیلئے ضروری ہیں۔جہاں تک بدنی روح کا تعلق ہے ان کے بھی بڑے گہرے اشارے موجود ہیں لیکن اس وقت یہ گفتگو اس موضوع پر نہیں ہور ہی اس لئے میں واپس پہلے والے مضمون کی طرف آتے ہوئے قرآنی آیات کی روشنی میں آپ کو خیانت کی بعض قسموں سے آگاہ کرتا ہوں اور ان پر آپ نظر رکھیں اور پھر دیکھیں کہ آپ میں آپ کے گھر والوں میں، آپ کے بچوں میں ان قسموں میں سے کون سی خیانت پائی جاتی ہے اور اگر وہ پائی جاتی ہے تو اس کا سرتوڑے بغیر آپ تبتل الی اللہ اختیار نہیں کر سکتے۔جو خیانت پائی جاتی ہے اس