خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 689
خطبات طاہر جلد اا 689 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء روس میں نصرت جہاں کے تحت وقف کرنے کی تحریک ہر سطح پر جھوٹ اور خیانت سے اپنے آپ کو پاک کریں۔ ( خطبه جمعه فرموده ۲ راکتو بر ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ یورپ کے تین ہفتے کے دورے پر جانے سے قبل جو سلسلہ خطبات کا چل رہا تھا اس میں یہ مضمون بیان ہو رہا تھا کہ تبتل کے کیا معنی ہیں ۔ دنیا سے کٹ کر اللہ کی طرف جانے کا کیا مطلب ہے اور میں سمجھا رہا تھا کہ سب دنیا سے کٹ جانا تبتل کا معنی نہیں بلکہ جھوٹے خداؤں سے تعلق توڑ لینا تبتل کا حقیقی معنی ہے اور یہ جھوٹے خدا انسان کے نفس کے اندر بستے ہیں۔ انسان کا نفس ہی بت تراش ہے اور سب سے زیادہ شرک انسان کی ذات میں ہوتا ہے۔ ان تمام مخفی بتوں کو توڑنا خدا تعالیٰ کی طرف حرکت کرنے کیلئے ایک لازما ہے ورنہ انسان کی گردن پر کسی نہ کسی بت کا کنڈ ا پڑا رہے گا اور ایک بت کی رسی توڑ دیں تو دوسرے بت کی رسی گردن میں حمائل رہے گی ۔ اس لئے اس مضمون کو تفصیل سے سمجھنے کی اور سمجھانے کی ضرورت ہے اس کے بغیر حقیقت میں جماعت بتوں سے آزاد نہیں ہو سکتی اور ہم نے تو تمام دنیا کو بتوں سے آزاد کرنا ہے۔ تو اس پہلو سے یہ جو خطبات کا سلسلہ جاری تھا اسے آگے بڑھانا تھا مگر میں یہ چاہتا تھا کہ یورپ کے سفر سے واپس آکر جب پھر پاکستان کے احمدی بھائی اور دوسرے مشرقی ممالک کے احمدی بھائی بھی اور اسی طرح افریقہ کے جاپان وغیرہ کے احمدی بھائی اس خطبے کو براہ راست سن سکیں تو پھر وہیں سے اس