خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 687
خطبات طاہر جلد ۱۱ 687 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء خوبصورت شکلیں بنی ہوئی تھیں وہاں ایک جڑ بھی دیکھی جس کا آخری کنارہ ابھی زمین تک، نیچے تک نہیں پہنچا تھا لڑکا ہوا تھا اور اُس کے متعلق ماہرین نے یہ بتایا تھا اور وہاں لکھا ہوا تھا کہ پہاڑ کی چوٹی پر ایک درخت تھا جو خشک سالی کا شکار ہوا اور اُس کی جڑیں پانی کی تلاش میں اترتی چلی گئیں چٹانی علاقوں میں سے چٹانوں کا دل چیرتے ہوئے یہاں تک کہ آخر وہ پانی تک پہنچ گئیں۔جب تک اُن کو پانی نہیں ملا اُن کی تلاش جاری رہی۔یہ پیاس ہوا گر داعی الی اللہ کے دل میں تو ہالینڈ کی یا جرمنی کی یا یورپ کے دیگر ممالک کی چٹانوں کی مجال کیا ہے کہ اُن کو روک سکیں۔اُنہوں نے تو پانی لینا ہی لینا ہے اور نرم جگہوں میں بھی خدا یہ طاقت بخش دیتا ہے کہ جب لو لگ جائے۔جب زندگی یا موت کا سوال پیدا ہو جائے تو پہاڑوں کے دل چیر دیتی ہیں اور لا زماپانی تک پہنچتی ہے۔پس آپ کے لئے بھی پانی کی تلاش دل کا ایک اندرونی مسئلہ بن جائے گی۔ایک بے اختیاری کی کیفیت ہوگی ، آپ کو ڈھونڈنا پڑے گا۔اگر آپ اپنے ماحول میں بار بار وہیں سر ٹکرا رہے ہیں اور کچھ نہیں مل رہا تو اُس کی مثال ایک ایسی جڑ کی سی ہے کہ جس میں زندگی اور شعور نہیں۔وہ بے چاری ٹکرا کے وہیں کھڑی ہو جاتی ہے اُس کو پتا ہی نہیں کہ مقصد کیا ہے، مقصد حاصل کرنا ہے اور سچی تڑپ ہو تو حصول کے بغیر چین نصیب نہیں ہوسکتا۔پس دعوت الی اللہ کوئی مکینیکل کام نہیں ہے کہ باقاعدہ ٹیکنیک سکھا دی جائے اور دعوت الی اللہ شروع ہو جائے۔دعوت الی اللہ ایک اندرونی بیداری کا نام ہے، ایک دل کی بھڑ کی کا نام ہے، دل میں ایک آگ لگنے کا نام ہے، دل کے مبتلا ہو جانے کا نام ہے، دل دعوت الی اللہ میں مبتلا ہو جائے جیسے ایک مرض میں مبتلا ہو جائے اور اُس کی پیاس بن جائے اور اُس کی بھوک بن جائے ،اُس کی زندگی کی بقا کا ذریعہ بن جائے۔اگر ایسی دعوت الی اللہ کا جذبہ ہمارے دلوں میں پیدا ہو جائے تو ہر احمدی کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضرور پانی ملے گا، ہر احمدی خدا کے فضل سے کچھ نہ کچھ پیدا کر کے دکھائے گا۔اُس وقت پھر جب یہ ہو جائے گا پھر یہ سوال نہیں کئے جائیں گے کہ آپ مطمئن ہیں کہ نہیں۔اپنی نشو ونما سے اس وقت یہ سوال ہو کہ ہم بے چین ہو گئے ہیں آپ کی نشو ونما سے ، ہمیں آپ سے خوف لاحق ہے آپ کیوں ہمارے ملک میں اس تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔آخر کیا ارادے ہیں آپ کے، آخر کیا چاہتے ہیں آپ۔جب فکر کی آواز اٹھنی شروع ہو گی وہ گواہ بنے گی ہمارے