خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 665

خطبات طاہر جلدا 665 خطبه جمعه ۸ ار ستمبر ۱۹۹۲ء قبلہ چھوڑ دو اور خانہ کعبہ کو قبلہ بناؤ۔اس گھر کو قبلہ بناؤ جو سب سے پہلے خدا کا گھر تھا۔اس پر ایک فتنہ پیدا ہوا اور کچھ لوگوں نے روگردانی کی یہ کیا بات ہوئی، پہلے یہ قبلہ پھر وہ قبلہ کیا خدا کو نہیں پتا تھا کہ اس کا قبلہ کون تھا اس قسم کی بیہودہ باتیں شروع ہو گئیں تو اُمَّةً وَسَطًا کے مضمون کے ساتھ خدا نے اس مضمون کو کیوں باندھ دیا یہ وہ معاملہ ہے جو غور طلب ہے۔بات یہ ہے کہ جو لوگ أُمَّةً وَسَطًا بنتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی سطحی باتوں پر نظر نہیں رکھتے ، چھوٹی چھوٹی ظاہری باتوں پر نظر نہیں رکھتے۔وہ نظر رکھتے ہیں رسول اور خدا پر اور اس کے مزاج کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔جو لوگ چھوٹی چھوٹی ظاہری سرسری باتوں پر نظر رکھتے ہیں ان کے لئے ہمیشہ ٹھوکر کا مقام آتا ہے۔پس کچھ ایسے لوگ تھے جن کو آنحضرت ﷺ سے محبت تھی اور آپ کا دین محمد رسول اللہ کی وساطت سے اللہ تک پہنچتا تھا۔یا یوں کہنا شروع چاہئے کہ آپ کے دین کی راہ میں جو قبلہ تھا وہ اللہ تھا لیکن اس قبلے کے بیچ میں قبلہ نما محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود تھا جو ہمیشہ وہ قبلہ دکھاتا تھا۔ان کا تو یہی دین تھا کہ جس طرف محمد رسول اللہ کا رُخ ہوا اسی طرف خدا ہو گا جس کیونکہ قبلہ نما آپ ہیں اور دوسرے دنیاوی قبلوں کی کوئی بھی حیثیت ان کی نظر میں نہیں تھی اس لئے اس بحث میں وہ پڑے ہی نہیں کہ بیت المقدس کا کیا مقام ہے، کب خدا نے اس کو خاص پاکیزگی بخشی کتنی دیر کے لئے بخشی، کن قوموں کے لئے وہ پاکیزگی مقدر تھی۔ان رسمی بحثوں میں پڑے بغیر وہ صرف یہ جانتے تھے کہ قبلہ خدا ہے اور قبلہ نما محمد رسول اللہ۔جس طرف اس کا رُخ ہو گا اسی طرف خدا ملے گا اس لئے چھوٹی چھوٹی رسمی باتیں ان کی راہ میں حائل نہیں ہوئیں۔ادنیٰ سے تر ڈر کئے بغیر انہوں نے فوراً قبلہ بدل دیا لیکن وہ لوگ جو ظاہر پرست لوگ ہوتے ہیں وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ دین کی روح بھول جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی نمازوں کے متعلق ہمیں پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ امام حسن اور امام حسین آپ کے کندھوں پر سوار ہو جایا کرتے تھے ، جب آپ مسجدے میں ہوتے تھے تو آپ پیار سے ان کو سنبھال کر ایک طرف اتار کر پھر کھڑے ہوا کرتے تھے (مسند احمد جلد ۵ صفحہ:۳۷، ۳۸)۔ایک دفعہ کہتے ہیں ایک پٹھان مجلس میں ایک استاد اس حدیث پر گفتگو کر رہا تھا اور اس سے پہلے یہ بتا چکا تھا کہ نماز میں کوئی حرکت نماز کے علاوہ کی جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔کسی کو پکڑا جائے کسی کو سنبھالا جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے تو ایک شاگرد نے فوراً کہا تو پھر نعوذ باللہ کیا رسول اللہ علیہ کی نماز ٹوٹ گئی ؟