خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد ۱۱ 663 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۹۲ء میں وسطی بنتی ہیں کہ ان کی نگرانی کرو ان کی حفاظت کرو اور ان کو وقت پر الگ الگ وقت پر سجا کے پڑھو۔جو طلبہ اعتراض کرتے ہیں یونیورسٹیوں میں ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا یا جگہ نہیں ہوتی یہ سب غلط باتیں ہیں قرآن کریم نے جو احکامات دیئے ہیں اس کے مطابق سہولتیں بھی ویسی ہی مہیا فرما دی ہیں۔اب کوئی عیسائیت یا ہندومت تو نہیں ہے کہ جس میں عبادت کے لئے آپ کو لا ز ما چرچ میں یا مندر میں پہنچنا ہو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کو مسجد بنا دیا ہے۔(مسلم کتاب المساجد حدیث نمبر : ۸۱۰) جہاں فرائض سخت مقرر کر دیے وہاں سہولتیں بھی مہیا فرما دیں۔پس دفتر میں دو گز جگہ مل جائے تو وہی نماز کے لئے کافی ہے۔سکول اور کالج میں اگر اندر جگہ نہیں ملتی تو باہر نکل کر برآمدوں میں کھڑے ہو کر کوئی نہ کوئی جگہ حاصل کی جاسکتی ہے اور میرا یہ تجربہ ہے کہ اساتذہ بھی تعاون کرتے ہیں۔اگر ان کو یہ بتا دیا جائے کہ ہماری نماز کے یہ اوقات ہیں اور چند منٹ کی بات ہے اگر آپ اجازت دیں۔تو میرے علم میں تو آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا یعنی جب تک میں یہاں پڑھا کرتا تھا کہ کبھی ایک استاد نے بھی انکار کیا ہو بلکہ ایک دفعہ ایک استاد میرے لئے جگہ تلاش کرنے کے لئے میرے ساتھ چلے۔ایک فلور پر نہیں دوسرے فلور پر ساتھ گئے۔میں ان کو کہتا بھی رہا کہ رہنے دیں میں ڈھونڈ لوں گا۔کہنے لگے نہیں نہیں میرا کام ہے، میں آپ کو ڈھونڈ کے دیتا ہوں۔چنانچہ ایک کمرے میں انہوں نے کہہ کر جگہ بنوائی کہ اس نے نماز پڑھنی ہے اسے سہولت دو۔تو بڑے نیک لوگ دنیا میں موجود ہیں۔آپ اگر بتا دیں کہ خدا کی خاطر ہم نے چند منٹ عبادت کرنی ہے وقت چاہئے تھوڑی سی صاف جگہ چاہئے تو لوگ آپ سے تعاون کریں گے۔توازن پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔توازن کے دونوں طرف کے تقاضے ہوا کرتے ہیں۔ایک انتہاء کے بھی ہوتے ہیں، دوسری انتہاء کے بھی ہوتے ہیں۔ایک طرف کے نہیں ہوا کرتے۔اسی کا نام تو ازن ہے، اس کا نام أُمَّةً وَسَطًا ہے یعنی ایسی امت جو بیچ میں واقع ہو۔پس آپ کو مغرب میں رہ کر اپنے مزاج کو اُمَّةً وَسَطًا کا مزاج بنانا ہوگا۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کا مزاج بنانا ہو گا۔تب قومیں آپ کے سپرد کی جائیں گی کہ آپ ان کی تربیت کریں۔اس کے بغیر آپ تربیت کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔اسی طرح آپ کے دوسرے نیک تقاضے ہیں۔جو مغرب میں بسنے کے نتیجے میں پیدا