خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 662
خطبات طاہر جلدا 662 خطبه جمعه ۸ ار ستمبر ۱۹۹۲ء کرتا ہے کہ نمازیں جمع کریں وہاں کریں وہاں نمازیں جمع نہ کرنا نا مناسب ہے لیکن جہاں یہ تقاضا کرتا ہے کہ نمازیں الگ الگ پڑھی جائیں وہاں الگ الگ ہی نمازوں پر نگران ہونا پڑے گا، ظہر کی نماز ظہر کے وقت پڑھنی ہوگی ،عصر کی نماز عصر کے وقت پڑھنی ہوگی۔گھروں میں کوئی جواز نہیں کہ آپ یہ گندی عادت آئندہ اپنی نسلوں میں بھی منتقل کر دیں لیکن ان علاقوں میں بسنے والوں میں عموماً میں نے یہ نقص دیکھا ہے کہ اجتماعی نمازیں تو شوق سے جمع کر کے پڑھتے ہیں کہ اجازت ہے اور انفرادی نماز میں بغیر اجازت کے جمع کر کے پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی اس زمانے کا تقاضا، اس زندگی کا تقاضا یہ ہے کہ نماز میں اکٹھی پڑھی جائیں۔یہ بالکل ناجائز بات ہے، بالکل غلط ہے۔اس زندگی کا اور دنیا پرستی کی زندگی کا تقاضا ہے کہ خدا کو زیادہ یاد کیا جائے ورنہ آپ لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔جتنا زیادہ دنیا آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے اُتنا ہی خدا کی یاد پر آپ کو نگران ہونا پڑے گا۔چنانچہ قرآن کریم میں نماز کے متعلق وَ الصَّلوة الوسطى جو فرمایا یہ بیان نہیں فرمایا کہ صلوۃ وسطی کیا چیز ہے۔فرمایا نمازوں کی نگرانی کرو، اُن کی حفاظت کرو حفظوا عَلَى الصَّلَواتِ صَلَوَات پر نگران رہو۔وَالصَّلوةِ الْوُسْطی لیکن خصوصیت سے وسطی نماز کی حفاظت کرو۔اب مختلف علماء مختلف تشریحیں کرتے رہتے ہیں، جب سے قرآن نازل ہوا ہے مختلف علماء نے مختلف نظریے پیش کئے ، کوئی عصر کی نماز کو وسطی کہتا ہے، کوئی صبح کی نماز کو، کوئی عشاء کی نماز کو لیکن قرآن کی فصاحت و بلاغت کا یہ کمال ہے کہ عمداً اس کو خالی چھوڑ دیا ، تشریح کے بغیر ، وضاحت کئے بغیر کہ وسطی کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اور جماعت میں دیگر علماء نے بھی اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وسطی سے مراد وہ نماز ہے جس کی ادائیگی سب سے زیادہ مشکل ہو، جو بعض کاموں میں پھنسی ہوئی نماز ہو۔ایسی نماز جو صبح کی نماز نیند کی حالت میں پڑھنی مشکل ہو جائے۔ایسی نماز جو ظہر کی نماز ہو مگر کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے مشکل ہو جائے اور کسی وجہ سے کوئی نماز مشکل ہو جائے۔مثلاً قافلہ دیر میں کہیں سے سفر میں واپس پہنچتا ہے یا اکیلا مسافر دیر میں واپس آتا ہے۔رات کو کھڑا ہونا اُس کیلئے مشکل ہو جاتا ہے تو عشاء کی نماز بھی وسطی بن جاتی ہے۔تو ہر وہ نماز جو مشکل میں پھنس چکی ہو اور جس کی ادائیگی مشکل ہو اس کو وسطی قرار دیا۔پس مغرب میں رہنے والوں کے لئے ظہر بھی وسطی بن جاتی ہے اور عصر بھی وسطی بن جاتی ہے اور مغرب بھی اور عشاء بھی۔ان معنوں