خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 61

خطبات طاہر جلد ۱۱ 61 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء انگریزی زبان میں بھی غیر معمولی ملکہ اللہ تعالیٰ نے عطا فر مایا تھا، ایک قدرت حاصل تھی اور فٹ بال کے بھی بہترین کھلاڑی تھے یہاں تک کہ جب میں گورنمنٹ کالج میں داخل ہوا ہوں تو اس وقت تک حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی تصویر ان طلباء کی صف میں لٹکی ہوئی تھی جنہوں نے گورنمنٹ کالج میں غیر معمولی اعزازی نشانات حاصل کئے تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کا انگریز پروفیسر غالباً Stefencen نام تھا ، مجھے پوری طرح یاد نہیں ، اس نے ایک دفعہ اُن سے کہا کہ قادیان میں تم لوگ کیا کرتے ہو؟ وہاں تو میں نے دیکھا ہے کہ دو چیزوں کے کارخانے لگے ہوئے ہیں، اچھے انگریزی دان اور اچھے کھلاڑی۔جو بھی قادیان کا طالب علم آتا ہے اس کا زبان کا معیار بہت بلند ہے اور کھیلوں کا معیار بہت بلند ہے اور کھیلوں کا معیار واقعةُ اتنا بلند تھا کہ قادیان کی سکول کی ٹیم پنجاب کے چوٹی کے کالجوں سے ٹکرایا کرتی تھی اور اکثران کوشکست دے دیتی تھی۔قادیان کی کبڈی کی ٹیم سارے پنجاب میں اول درجے کی ٹیم تھی۔تو کھیلوں کا معیار بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ بلند تھا اور ان دونوں چیزوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔اچھے تعلیمی اداروں میں ہمیشہ اچھے کھلاڑی بھی پیدا ہوتے ہیں اور لاز ما عقل اور ذہن کی صحت کے ساتھ جسمانی صحت کی طرف بھی یہ ادارے توجہ دیتے ہیں۔اب قادیان میں دوسری مشکل یہ در پیش ہے کہ ان کے لئے کھیلوں کا کوئی انتظام نہیں ہے میں نے سکول کے بچوں سے بچیوں سے سوالات کئے۔وہاں لجنہ سے ، خدام الاحمدیہ سے جائزے لئے تو یہ دیکھ کر بہت ہی تکلیف ہوئی کہ غیروں نے تو تعلیم کی طرح کھیلوں کی طرف بھی توجہ چھوڑ دی ہے اور قادیان کے سکولوں اور کالجوں میں کوئی بھی معیارنہیں رہا نہ تعلیم کا نہ کھیل کا ہر لحاظ سے پیچھے جا پڑے ہیں حالانکہ اللہ کے فضل سے علاقے میں صحت کا معیار بہت بلند ہے اور اگر جذ بہ ہوتا ، ایک انتظام کے تحت علم اور صحت دونوں کی طرف توجہ کی جاتی تو قادیان ابھی بھی خدا کے فضل سے یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ پنجاب میں اسی طرح چمکے جس طرح پہلے چمک کر دکھا چکا ہے تو کھیلوں کی طرف ہمارے اندرون میں یعنی قادیان کے اس حصہ میں بھی کوئی توجہ نہیں جس میں درویش بستے ہیں اور اس طرح بچوں کی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں۔لڑکیوں کے لئے کھیلنے کا کوئی انتظام نہیں۔محدود علاقے میں قید ہیں۔پس تعلیمی منصوبے کے علاوہ ایک منصوبہ یہ بنایا گیا ہے کہ ان کے لئے