خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 652 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 652

خطبات طاہر جلد ۱۱ 652 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء اوپر کے افسر کو اس لئے پیش کر رہے ہیں تمہاری معرفت تا کہ اصلاح ہو۔اگر یہ طریق ساری جماعت اختیار کرے تو تمام عہدیداروں کی بھی اصلاح ہو جائے گی اور یہ جو جھوٹے دانشور بنے پھرتے ہیں، ان کا بھی ایمان ضائع نہیں ہوگا۔بعض مربیوں کے متعلق شکایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا رہن سہن بڑا اونچا کیا ہوا ہے، غریب مربی بیچاروں نے کیا رہن سہن اونچا کرنا ہے لیکن بعض گھروں میں سلیقہ ہوتا ہے اور بعضوں میں نہیں ہوتا۔میں نے دیکھا ہے تھوڑے روپے پر بھی بعض گھروں میں بڑی رونق ہوتی ہے ، سلیقہ اور نظافت پائی جاتی ہے اور زیادہ روپوں میں جن کو گھر چلانا نہیں آتا ، اُن کے گھر میں تو گند کے انبار ہی لگے ہوتے ہیں، افراتفری ، بدنظمی ، نہ کھانے کا لطف اور نہ رہنے کا لطف، بچوں کا شور مصیبت، گند ہر طرف تو خدا نے اگر کسی کو نظافت دی ہے تو اُس میں جلنے کی کیا بات ہے۔صرف ایک بات ہے کہ کیا کوئی مربی بد دیانتی کر کے سلسلے کے ایسے روپے کو اپنی ذات پر، اپنے بیوی بچوں پر استعمال کرتا ہے یا نہیں جو اُس کے پاس امانت ہے۔اس بات پر ہر شخص کا حق ہے اگر اُس کے علم میں بات آئے تو وہ اُس شخص کی معرفت بالا افسر کو مطلع کرے لیکن اتنی کمینگی اور تھر دل اختیار کرنا کہ کسی مربی کو اچھی حالت میں، نفاست کے ساتھ رہتے ہوئے دیکھ کر دل میں ایک قسم کی حسد کی آگ لگا لینا اور اس تکلیف میں رہنا اور ہر وقت آپس میں باتیں کرنا کہ یہ مربی ضرور کوئی بے ایمان ہے، یہ ضرور ایسا ہوگا ویسا ہوگا۔دیکھو کیسا اچھا رہتا ہے۔اچھار ہنا تو اچھی بات ہے۔گندہ رہنے میں تو کوئی نیکی نہیں ہے۔یہ جاہلوں کا خیال ہے کہ گندگی میں نیکی ہے۔تمام انبیاء بہت ہی نفیس اور لطیف مزاج کے مالک ہوا کرتے تھے۔سب کی طبیعت میں نظافت تھی ، نفاست تھی ، صفائی تھی ، سنجیدگی کے ساتھ مزاح کا بھی پہلو تھا۔اُن کے گھروں کی نظافت کو دیکھ کر اگر کوئی کہے کہ دیکھو لوگوں کے پیسے کھا گیا تو اپنے ایمان کو گنوانے کے سوا اُس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ہاں اگر کسی مربی کے متعلق یہ شکایت ہو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ اُس نے سلسلے کے اموال پر تصرف کیا ہے تو بدظنی کے نتیجے میں آپ کو ایسا کوئی حق نہیں۔وہ لوگ جن کا کام ہے سلسلے کے اموال کی نگرانی کرنا اُن کو چاہئے کہ نظر رکھا کریں اور دیکھا کریں کہ کیا اُس نے سلیقے اور بچت سے اپنا معیار بلند کیا ہے، یا غلط تصرفات کے ذریعہ کیا ہے۔اُن کا کام ہے وہ اگر ٹھوس وجوہات محسوس کریں تو اوپر افسران بالا کو اُس کی اطلاع کریں لیکن مجلسوں میں یہ