خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 651
خطبات طاہر جلداا 651 خطبه جمعه ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء جب سے میں نے خطبہ سنا ہے میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑ رہا ہے اور اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ خط لکھ کر اب اپنے وکیل کے پاس جا رہا ہوں اور اُس کو بتاؤں گا کہ میرے کیس میں یہ بات سچی ہے اور یہ جھوٹی ہے یہ بات نکال دوخواہ میرا کیس منظور ہو یا نہیں مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔ بہت ہی میرے دل سے اس کے لئے یہ دعائیں نکلی اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُس کے لئے بہتر سامان فرمائے گا لیکن اگر وقتی طور پر قربانی بھی دینی پڑے تو توحید کے قیام کے لئے ہر قربانی کم ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ قیام توحید کے لئے انسان جو قربانی پیش کرتا ہے وقتی طور پر اُس کو تکلیف بھی ہو تو آئندہ ہمیشہ ہمیش کے لئے وہ امن میں آجاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اُس کی حفاظت میں خود کھڑا ہو جاتا ہے اس لئے قربانی وقتی اور سرسری سی ہے اس کے نتیجے میں ساری زندگی آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ فوائد حاصل ہوں گے۔ پس جھوٹ کے خدا پر لعنت ڈالتے ہوئے ، اس کا بت توڑتے ہوئے ، پاش پاش کر کے ایک طرف پھینک دیں، کسی احمدی کے دل میں، اُس کے گھر میں جھوٹ کا بت نہیں ہونا چاہئے۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے ، اپنی طرف سے دانشور بنتے ہیں، جماعت کے عہدے داروں پر تنقید کرتے ہیں کہ اس نے یہ کیا ، اس میں یہ فلاں بات ہے۔ جب مجھ تک یہ باتیں پہنچتی ہیں تو میں تحقیق کرواتا ہوں تو اکثر تنقید کرنے والوں کا قصور نکلتا ہے اور اگر کچھ باتیں بُری پائی بھی جاتی ہیں عہدیداران میں تو اُس کا مناسب طریقہ ہے بجائے اس کے کہ مجلسوں میں بیٹھ کے باتیں کی جائیں ، اُس سے جھوٹے اور مکر وہ لطف اٹھائے جائیں ، جھوٹے اور مکر وہ لطف اس لئے کہ یہ غیبت کی باتیں ہیں اور غیبت کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ ایسا ہی لطف ہے جیسے اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھاؤ اور اس کے لطف اٹھا رہے ہو۔ رہے ہو۔ تو اس مکر وہ لطف کے بجائے سیدھا طریقہ کیوں نہیں اختیار کرتے جب کسی عہدیدار میں کوئی کمزوری دیکھتے ہیں اس تک پہنچ کے ادب کے ساتھ اُس کو سمجھائیں کہ آپ کے اوپر یہ بات بجتی نہیں ہے ۔ آپ عہد یدار ہیں یہ بات چھوڑیں اور یہ بات اختیار کریں ۔ اگر وہ نہیں مانتا تو آپس میں ایک دوسرے سے اس کے خلاف باتیں کر کے گندے اور غلیظ چسکے حاصل کرنے کے بجائے نظام جماعت کو ، ان عہد یداروں کے معرفت مطلع کریں۔ اس میں کوئی نقص نہیں ہے، بلکہ بہت ہی عمدہ بات ہے، کسی شخص کی کمزوری کے متعلق بالا افسر کو اس کی معرفت خط لکھا جائے ۔ اُس کو بتایا جائے کہ تمہارے اندر یہ بات ہے، ہم یہ