خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد ۱۱ 646 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء اٹھایا جائے گا۔قرآن کریم یہ فرماتا ہے کہ وَمَنْ كَانَ فِي هذه أعْلَى فَهُوَ فِى الْآخِرَةِ اغمی (بنی اسرائیل :۷۳) کہ دنیا میں جو اندھا ہو وہ قیامت کے دن مرنے کے بعد بھی اندھار ہے گا۔اس سے مراد لقاء کا حاصل ہونا یا لقاء کا نہ حاصل ہونا ہے۔وہ شخص جس کو خدا دنیا میں دکھائی نہ دینے لگے اور بار بار اس کی جھلکیاں نظر نہ آئیں۔وہ جو خصوصیت کے ساتھ نماز میں آتی ہیں، وہ دنیا میں اندھا ہے اور جیسے اندھے کو پتا نہیں لگتا کہ میں کس چیز سے محروم ہوں اُسی طرح ایسا آدمی بھی بسا اوقات محسوس ہی نہیں کرتا کہ وہ کس چیز سے محروم ہو رہا ہے۔اُس کے متعلق کتنی درد ناک خبر ہے۔وَ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلمی جو اس دنیا میں اندھا رہا آخرت میں بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا۔وہاں بھی اُس کے لئے بصارت نہیں ہوگی۔پس یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بہت ہی بڑی اور بنیادی خرابی ہے۔ایسے لوگ وہ ہیں جو دراصل ماحول کا ایندھن بن جاتے ہیں۔ماحول کی دلچسپیاں اُن کو کھینچ لیتی ہیں۔نماز ہی ہے دراصل جو اُن کی حفاظت کرتی ہے۔ہرقسم کی برائی ہرقسم کی فحشاء سے لیکن جب وہ نمازوں سے غافل ہوں تو دنیا کی دلچسپیاں اُن کو بے روک ٹوک بھینچتی ہیں۔میں نے دیکھا نماز پڑھنے والوں میں بھی خرابیاں ہوتی ہیں اُن میں بھی بعض دفعہ فحشاء کی عادت ہوتی ہے لیکن ایک نمازی کی زندگی اور بے نمازی کی زندگی میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک - بے نماز انسان بے روک ٹوک اپنی بد عادتوں کی طرف بڑھتا ہے اور دوڑتا چلا جاتا ہے اور کوئی آواز اُس کو واپس بلانے کے لئے اس کے کان میں نہیں پڑتی۔لیکن ایسے بھی نمازی ہیں جن سے گناہ ہوتے ہیں۔بعض گناہوں کے وہ بچپن کی غلطیوں کی وجہ سے عادی بھی بن چکے ہوتے ہیں لیکن ہر نماز میں ضمیر کی آواز کانوں میں سنائی دیتی ہے اور اُن پر لعنتیں بھیج رہی ہوتی ہے کہ تم کیا کرتے آئے ہو، اب کیا کر رہے ہو؟ واپس کس دنیا میں جاؤ گے اور مسلسل کوشش کرتے ہیں، روتے ہیں، پیٹتے ہیں، گریہ وزاری کرتے ہیں اور بعض دفعہ سمجھتے ہیں کہ ہماری نہیں سنی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ نماز کی آواز ضائع نہیں جایا کرتی۔جلد یا بدیر آخر نماز میں اٹھنے والی ضمیر کی آواز اُن پر غالب آجایا کرتی ہے اور ہرقسم کی برائیوں سے اُن کو کھینچ کر ایک دفعہ خدا کی طرف لے آتی ہے مگر جو نماز ہی نہیں پڑھتا اُس کے لئے یہ کون سا امکان ہے؟ اُس کے بچنے کی تو ہر راہ بند ہو چکی ہوتی ہے۔