خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 60 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 60

خطبات طاہر جلد ۱۱ 60 60 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء میں ملیں گی اور پنجابی میں تو کوئی کتاب نظر نہیں آئے گی اور دنیا کے دوسرے ادارے ان کو قبول ہی نہیں کریں گے تو یہ در اصل ایک وسیع پیمانے پر علمی خود کشی ہے مگر یہ للہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہندوستان کی حکومت کا ایک قانون یہ ہے کہ کسی صوبے میں جو تعلیمی پالیسی ہے، اس صوبے سے متعلق ادارے اس تعلیمی پالیسی کے اختیار کرنے کے پابند ہیں لیکن ہر صوبے میں مرکزی تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے کے امکانات ہیں اس لئے پنجاب کا کوئی تعلیمی ادارہ دہلی کے تعلیمی نظام سے متعلق ہونا چاہے تو وہ ہوسکتا ہے۔علی گڑھ کے تعلیمی نظام سے متعلق ہونا چاہے تو وہ ہوسکتا ہے اور اس پر پھر اسی ادارے کا قانون صادر ہوگا جس سے وہ متعلق ہے تو اس لئے جماعت احمدیہ کی راہ میں ایک نہایت اعلیٰ پیمانے کا تعلیم اور تدریس کا نظام جاری کرنا مشکل نہیں ہے اور قانو نا کوئی روک نہیں ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ نمونہ جب قائم ہو گا تو باقی سکھ اداروں کو بھی ہوش آئے گی اور وہ بھی ہماری تقلید کی کوشش کریں گے اور قومی فائدہ پہنچے گا۔تو اس ضمن میں جب باہر سے اساتذہ بلانے کا یا اور خدمات کا وقت آئے گا تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ ساری دنیا کی جماعتیں اس میں حصہ لیں گی۔سر دست تو میں دعا کی تحریک کر رہا ہوں کہ بہت باقاعدگی سے سنجیدگی سے دل لگا کر دعا کریں کہ قادیان کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے کے لئے خدا پھر ہمیں توفیق بخشے کہ پرانے تعلیمی اداروں کی روایات کو زندہ کر سکیں اور جو کر دار وہ پہلے ادا کرتے رہے ہیں از سر نو پھر وہ یہ کردار ادا کر سکیں۔قادیان کو تو ساری دنیا میں علم کا مرکز بننا ہے اور خدا نے اس کام کے لئے اُسے چن رکھا ہے۔پارٹیشن سے پہلے کی بات کر رہا ہوں کہ جن دنوں میں قادیان ایک چھوٹی سی بستی تھا مگر علمی لحاظ سے اس کی بڑی شان تھی اور پنجاب میں دور دور تک قادیان کے سکول سے نکلے ہوئے طلبا کی عزت کی جاتی تھی ، احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ کالجوں میں داخل کرنے کی راہ میں کوئی روک نہیں ہوا کرتی تھی۔انگریزی زبان کا معیار اتنا بلند تھا اور کھیلوں کا معیار اتنا بلند تھا کہ ان دو غیر معمولی استثنائی امتیازات کی وجہ سے قادیان کے طلباء جب چاہیں گورنمنٹ کالج میں، ایف سی کالج میں کسی بہترین ادارے میں داخل ہونا چاہیں تو ان کو عزت کے ساتھ لیا جا تا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو خدا کے فضل سے یہ دونوں امتیاز حاصل تھے کہ