خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 644
خطبات طاہر جلدا 644 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء اس جلوس کے ایک طرف ایک عام نماز میں کوشش کرنے والا انسان ہے اور سب سے دور اتنا دور کہ تصور کی آنکھ بھی بمشکل پہنچتی ہے حضرت اقدس محمد مصطفی یہ عبادت کرنے والوں کے قافلہ سالار کے طور پر اس قافلے کی سربراہی فرما رہے ہیں۔ان دو کے درمیان بہت بڑے فاصلے ہیں لیکن جیسا کہ جلوسوں میں اور اجتماعی طور پر چلنے والے گروہوں میں دیکھا گیا ہے ضروری نہیں ہوا کرتا کہ جو شخص سب سے پیچھے رہ گیا ہے وہ ہمیشہ سب سے پیچھے ہی رہے۔آگے پیچھے لوگ ہوتے رہتے ہیں۔کچھ کوشش کرتے ہیں، زور لگاتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں، کچھ لوگ سستی دکھاتے ہیں تو پیچھے رہ جاتے ہیں۔کوشش کریں کہ آپ سب سے آخر پر نہ رہیں اور آپ کا اور حضرت اقدس محمد مصطفی مہینے کا فاصلہ نسبتاً کم ہو۔اس کا سب سے اچھا موقع ، اس کوشش اور جدوجہد کا نماز ہے جس کا نماز میں آنحضور ﷺ سے فاصلہ کم رہ جائے جب وہ یہ دعا کرتا ہے اے خدا مر نے کے بعد مجھے محمد رسول اللہ کی معیت میں اٹھانا، آپ کے قرب میں جگہ دینا تو اس کی دعا میں ایک جان پیدا ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نظر اُس کو اس حیثیت سے دیکھتی ہے کہ کمزور سہی لیکن سچا آدمی ہے۔اس نے زندگی بھر کوشش ضرور کی تھی کہ آنحضور اللہ کا قرب نصیب ہو لیکن وہ جو قرب کی کوشش نہیں کرتے اور لوگوں کو دعا کے لئے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کریں کہ مرنے کے بعد ہمیں خدا آنحضور لے کے قدموں میں جگہ دے۔ان دعاؤں کی کیا حیثیت ہے؟ منہ کی باتیں ہیں اور اگر کوئی اہل اللہ بھی اُن کے لئے دعا کرے گا تو یہ دعا قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ دعا کو نیک اعمال طاقت بخشتے ہیں۔بعض دفعہ دعا کرنے والے کے نیک اعمال بعض دفعہ جس کے لئے دعا کی جاتی ہے اُس کے نیک اعمال چنانچہ بعض لوگ جن کے اندر نیک اعمال کی صلاحیت ہو اُن کے حق میں یہ دعا قبول ہو جاتی ہے، جو نیک اعمال سے کلیۂ محروم صلى الله ہوں اُن کے حق میں نہیں ہوتی۔چنانچہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے دو عمروں میں سے ایک عمر خدا سے مانگا تھا یعنی دونوں مل جائیں تو بہتر ورنہ ایک تو ملے (ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر : ۳۶۱۴)۔یہ مراد ہے اس سے۔ایک ابو جہل کا نام بھی عمر تھا اور ایک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام بھی عمر تھا۔ابو جہل کے حق میں دعا قبول نہیں ہوئی لیکن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دعا قبول ہوئی حالانکہ دعا کرنے والا وہی تھا۔اُس کے نیک اعمال بھی وہی تھے جو دعاؤں کو رفعت بخشتے ہیں۔پس جس کے حق میں دعا کی جائے اُس کے اعمال کا بھی قبولیت دعا سے گہرا تعلق ہوا کرتا ہے۔