خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 641

خطبات طاہر جلدا 641 خطبه جمعه ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء آپ کے دل میں تموج پیدا ہو، ایک تحریک پیدا ہو جیسے کسی پیارے سے جب آپ ملتے ہیں تو اُس کی بعض باتیں یاد رہ جاتی ہیں ۔ اُن ملاقاتوں کے بعض لمحات ایسے دل پر نقش ہو جاتے ہیں کہ ہمیشہ انسان اُن کی سوچوں سے ہی لطف ا لطف اندوز ہوتا رہتا ہے۔ نماز میں بھی کچھ اسی قسم کی ی قسم کی کیفیات پیدا ہونی ضروری ہیں۔ وہی نمازیں زندہ ہیں جو دل میں حرکت پیدا کر دیں، جو ایک ایسا تموج پیدا کر دیں جس کی لہریں دیر تک باقی رہیں اور آپ کے دل و دماغ میں اُن کے نمگی گونجتی رہے، اُن کا ترنم آپ کو لطف پہنچاتا رہے۔ یہ جو نہ گیا جو نمگی اور ترنم ہیں۔ یہ تموج ہی کے دوسرے نام ہیں۔ تموج کا مطلب ہے عملی اور تر لہریں پیدا ہونا لیکن اگر لہریں خاص موسیقی سے پیدا ہوں ۔ ان کے اندر ایک آپس کی ہم آہنگی پائی جائے نظم و ضبط پایا جائے تو اُسی کا نام موسیقی ہے۔ آپ نے اچھے گانے والے بھی سنے ہیں ، بڑے گانے والے بھی سنے ہیں۔ کبھی آپ کو شاید یہ علم نہ ہو سکا ہو۔ بعض آوازیں آپ کو کیوں پسند آتی ہیں اور بعض آوازیں کیوں پسند نہیں آتیں ؟ وجہ یہ ہے کہ جن آوازوں کو آپ پسند نہیں کرتے اُن کے اندر کوئی اندرونی ہم آہنگی نہیں ہے۔ ایک لہر چھوٹی سی اٹھی ہے دوسری بڑی اٹھی تیسری درمیان میں کہیں چلی گئی اور آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مزاج نہیں ملتے ورنہ اچھے پڑھنے والوں کی آوازوں میں بھی چھوٹی لہریں بھی ہوتی ہیں ، بڑی لہریں بھی ہوتی ہیں اور درمیانی لہریں بھی ہوتی ہیں لیکن ان کے آپس کے رابطوں میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے ، مزاج ملتے ہیں اور جب آوازوں کے مزاج ملیں تو لطف پیدا کر دیتی ہیں ۔ اسی طرح انسان کے جب انسان سے مزاج مل جائیں تو لطف پیدا ہو جاتا ہے، وہ بھی ایک قسم کی میوزک ہے۔ ایک ایسا آدمی جو آپ کو پسند نہ ہو اس کے ساتھ بیٹھنا سوہانِ روح ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ عذاب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جتنی دیر اس کی مجلس میں آپ بیٹھتے ہیں مصیبت پڑی ہوتی ہے۔ وہ بھی دراصل ایسے ہی ہے کہ جیسے بُری آواز والے کی آواز بیٹھے سن رہے ہیں۔ بُری آواز والے کی آواز کے اندراندرونی ہم آہنگی نہیں ہوتی اور آپ کے دل میں جو خدا تعالٰی نے میوزک کا ایک تصور ثبت کر رکھا ہے یعنی نفسگی ایسی چیز نہیں ہے جو باہر سے آتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے دل میں نغمگی کا ایک تصور ثبت کیا ہوا ہے اور اس تصور کے ساتھ جب بیرونی نغمگی یا گا نا ہم آہنگ ہو جاتے ہیں تو انسان کو اتنا لطف محسوس ہوتا ہے کہ اُس لطف میں بعض دفعہ وہ ایسی کیفیات میں چلا جاتا ہے جسے لوگ جذب کی حالت کہتے ہیں اور وہ ہمیشہ یاد رہتی ہے۔