خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد ۱۱ 632 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء خلاف اُلٹیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت ہی پیاری نصیحت فرمائی ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں۔زبان سے خواہ سچی بات بھی ہو، کیسی اچھی بھی کی گئی ہو یہ کافی نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ جب تک دل سچا نہ ہو جائے اور دل کی گہرائی ہے بات نہ نکلے اُس وقت تک دلوں پر فتحیاب نہیں ہوسکتی۔تو نہ صرف اپنے قول کو سچا کریں بلکہ اپنے عمل کو بھی سچا کریں۔اپنے دل کی گہرائی میں پرورش پانے والی نیتوں کو سچا کر لیں۔اگر آپ ظاہر اور باطن اور اوپر سے نیچے تک بچے ہو جائیں گے تو لازماً آپ کی فتح ہوگی۔کچھ دیر کے لئے دھو کے باز فریب کاری سے کام لے کر دھوکہ دے دیا کرتا ہے مگر سچ آخرضرورکھتا ہے اور کھلتا ہے اور پھولتا ہے اور پھلتا ہے اور لازماً پنپتا ہے۔سچ ہی کو غالب آنا ہے لیکن ترکیب وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن وسنت کا عرفان حاصل کر کے پیش فرمائی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کو زبان دی اور ایک دل بخشا ہے۔صرف زبان سے کوئی فتح نہیں ہوسکتی۔دلوں کو فتح کرنے والا دل ہی ہوتا ہے جو قوم صرف زبانی ہی زبانی جمع خرچ کرتی ہے یاد رکھو وہ کبھی بھی فتح یاب نہیں ہو سکتی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا نمونہ دیکھو کہ کیا اُن کے پاس کوئی ظاہری سامان تھے؟ ہر گز نہیں مگر پھر بایں ہمہ کہ وہ بے سروسامان تھے اور دشمن کثیر اور ہر طرح کے سامان اُسے مہیا تھے اُن کو خدا تعالیٰ نے کیسی کیسی بے نظیر کامیابیاں عطا کیں۔بھلا کہیں کسی تاریخ میں ایسی کامیابی کی کوئی نظیر ملتی ہے؟ تلاش کر کے دیکھ لومگر لا حاصل۔پس جو شخص خدا کو خوش کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اُس کی دنیا ٹھیک ہوجاوے۔خود پاک دل ہو جاوے نیک بن جاوے اور اُس کی تمام مشکلات حل اور دکھ دور ہو جاویں اور اس کو ہر طرح کی کامیابی اور فتح ونصرت عطا ہو تو اُس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا کامیاب ہو گیا، بامراد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے