خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 631 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 631

خطبات طاہر جلد ۱۱ 631 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء ہے اور پھر بھی یہ جاہل اور ظالم لوگ فریب کاری سے باز نہیں آتے۔احمدیت کے متعلق میں نے ایک دفعہ Test case مباہلہ کے سلسلہ میں بھی پیش کیا تھا۔میں نے کہا یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے متعلق جو باتیں کہتے ہیں وہ اربعے لگا کر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم سے پوچھ تو ہم وہ ہیں ہی نہیں یہ کیا وجہ ہے کہ آج تک جماعت احمدیہ نے کبھی کسی مذہب ، کسی فرقے کی طرف ایسا عقیدہ منسوب نہیں کیا جس میں انہوں نے آگے سے کہا ہو یہ ہمارا عقیدہ نہیں۔کوئی دنیا میں ایک مثال قائم نہیں کر سکتا۔جب ہم مقابلہ کرتے ہیں تو سچائی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔اگر بہائیوں سے ٹکر ہے تو بہائیوں کو وہ بات کہیں گے جو وہ مانتے ہیں جو اُن کے عقیدے میں داخل ہے۔جب ہندوؤں سے بات کرتے ہیں تو اُن کے وہ عقیدے لیتے ہیں جن عقیدوں پر وہ قائم ہوتے ہیں۔بعض دفعہ بعض علماء بھی میری مجلس سوال و جواب میں آیا کرتے تھے اور جب وہ دیکھتے تھے کہ ہم ہمیشہ وہی بات کرتے ہیں جو مد مقابل کے عقیدے میں داخل ہے تو بعض دفعہ یہ فریب دینے کی بھی کوشش کرتے تھے کہ عوام الناس کے سامنے کہہ دیا کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے۔تو میں ہمیشہ کہتا تھا کہ الحمدللہ اگر یہ آپ کا عقیدہ نہیں تو آپ احمدی ہیں کیونکہ یہی احمدیوں کا عقیدہ ہے۔پھر جھگڑا کس بات کا ہے ، پھر آپ اختلاف کیا کر رہے ہیں۔آئیے ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔پس حق کے لئے کوئی خطرہ اور کوئی خوف نہیں۔اگر جھوٹا فریب کاری سے کام لے گا تو فریب بھی اس پر آئے گا۔اس لئے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے قلعہ میں محفوظ ہے اور مامون ہے جو قرآن کریم نے حق کا قلعہ قائم فرمایا ہے۔اس کی ساری دیوار میں سچائی پر بنی ہونی چاہئیں۔پہلی اینٹ بھی سچائی پر مبنی ہونی چاہئے اور یہ عمارت مسلسل سچائی کی اینٹوں پر بلند ہونی چاہئے ، اس کے آخری کنکر بھی سچائی پر بنی ہونے چاہئیں۔یہ وہ قلعہ ہے جس میں جماعت احمدیہ کے لئے امن ہے اور جس میں جماعت احمدیہ کے لئے حفاظت ہے۔ہر قسم کے مکر وفریب کو چھوڑ کر اس امن کے قلعہ میں داخل ہوں۔یہ سچائی کا قلعہ ہے جو آپ کی حفاظت فرمائے گا۔اس قلعہ میں داخل ہوں گے تو دشمن کی طاقت نہیں کہ آپ کے خلاف کوئی کاری حربہ استعمال کر سکے۔حربے تو استعمال کرتا رہے گا مگر ہر حربہ اس کے لئے بے معنی اور بے مقصد اور بے فائدہ ثابت ہوگا بلکہ بسا اوقات اس کے اپنے حربے اُس کے