خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد ۱۱ 629 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء اور صاف بات کر کے سچائی کے ساتھ اسلام کو پھیلایا گیا اور جھوٹ کا سہارا نہیں لیا گیا۔یہاں تک کہ ایک جنگ کے موقع پر حضرت اقدس محمد مصطفی عنہ کے سامنے مشرک پہلوان کو پیش کیا گیا جس کا سارے عرب میں دبد یہ تھا۔یہ غالباً جنگ بدر کی بات ہے۔وہ فن حرب کے لحاظ سے بہت شہرت رکھتا تھا۔اُس نے اہل مکہ سے اپنا ذاتی انتقام لینا تھا اور اس غرض سے اس نے سوچا کہ اب مسلمانوں کی اُن سے لڑائی ہورہی ہے، یہ کمزور ہیں ، ضرورت مند ہیں، میں ان کے ساتھ شامل ہو کر اپنے بدلہ صلى الله اُتاروں گا۔کسی صحابی نے بڑی خوشی کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مبارک ہو۔بہت زبردست نامی پہلوان ہمارے ہاتھ آیا ہے اور وہ تیار ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو کر دشمنوں کے خلاف جنگ کرے۔آپ نے فرمایا وہ مشرک ہے۔عرض کیا گیا ہاں مشرک ہے۔تو فرمایا مجھے اپنی سچائی کے لئے اور توحید کے لئے کسی مشرک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔(مسلم کتاب الجہا دوالسیر حدیث نمبر: ۳۳۸۸) کیسا پاک رسول ہے۔آپ کے کردار کی کیسی عظمت ہے۔آپ کی سچائی کی روشنی دیکھیں تو آج بھی نظر چندھیاتی ہے۔وہ اتنا خوفناک وقت تھا کہ جس کے مضمرات آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر اور کوئی واقف نہیں ہو سکتا۔آپ نے خدا کے حضور بلکتے ہوئے وہ وقت گزارا ہے۔حضرت ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ میں آپ کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ خیمہ میں تھا۔اس قدر کرب تھا اور اس قدر بے قراری سے آپ دعائیں کر رہے تھے کہ روتے روتے آپ کی چادر بار بار کندھوں سے گرتی تھی یا چوغہ گرتا تھا اور میں سنبھال سنبھال کر دوبارہ رکھتا تھا۔اور دعا یہ کر رہے تھے کہ اللھم ان اهلكت هذه العصابة فلن تعبد في الارض ابدا (مسلم کتاب الجہا دوالسیر حدیث نمبر : ۳۳۰۹) اے میرے اللہ! اگر آج یہ چھوٹی سی جماعت میدان میں ماری گئی تو دنیا میں پھر تیری کبھی عبادت نہیں کی جائے گی۔اتنے بڑے مقصد کو اتنا بڑا خطرہ درپیش ہے اور باطل کی طرف سے مدد آئی ہے مگر کس شان کے ساتھ ، کس استغناء کے ساتھ اس کا انکار فرمایا کہ جاؤ جاؤ کہ مجھے کسی مشرک کی ضرورت نہیں اور آج احمدیت کے خلاف ہر قسم کے جھوٹ ہر قسم کے مکر، ہر قسم کے فریب سے کام لیا جا رہا ہے یہاں تک کہ سچ ان کے موافق ہی نہیں آتا۔جھوٹ پر مجبور ہیں اور یہ ہے حق کی شان کہ اس کا مخالف لازماً جھوٹ اور فریب اور مکر پر مجبور ہو جایا کرتا ہے کیونکہ اگر وہ سچی بات کریں تو سچی بات تو خوبصورت ہوتی