خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 628

خطبات طاہر جلد ۱۱ 628 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے یہ حق پریشان کے ساتھ قائم ہوئے اور اس جلوے کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی کوئی نبی اس شان اور استقلال کے ساتھ حق پر قائم نہیں ہوا تھا ایسا عالمی جلوہ کبھی کسی نے نہیں دکھایا۔جلال بھی تھا، جمال بھی تھا، اس شان کے ساتھ آپ دنیا میں اللہ کا نور بن کر چمکے ہیں کہ مشرق اور مغرب دونوں کو برابر روشن کر دیا اور اس حق کو پھیلانے کے لئے ساری زندگی ایک ادنیٰ سے مکر سے بھی کام نہیں لیا۔سب سے بڑی لڑائی آپ کے وقت میں جاری ہوئی ہے اور قرآن کریم پڑھ کر دیکھیں۔ان آیات کو غور سے سنیں جن کی میں نے تلاوت کی ہے اور ان کے مضمون پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ حق کے دشمن نے اس دعوی کے ساتھ مکر سے کام لیا کہ ہما را مد مقابل باطل پر ہے اس لئے ہمیں حق ہے کہ باطل کو باطل اور جھوٹ کو فریب کے ذریعہ مثانے کی کوشش کریں اور سارے انبیاء کی تاریخ میں ، آدم سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطف اللہ کے زمانے تک قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ایک بھی ایسا نبی نہیں جس نے حق پر ہوتے ہوئے باطل کے خلاف مکر سے کام لیا ہو۔سارے مکر اُن کے سپر د ہو گئے تھے کہ جو چاہتے ہو کر ڈالو لیکن حق کو باطل کی ضرورت نہیں ہے۔حق کو مکر کی ضرورت نہیں ہے اس لئے یہ اس فریب میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ اگر حق پر ہیں تو حق کی خاطر مکر سے کام لے سکتے ہیں۔حق اور باطل کی جولڑائی ہے اس لڑائی کو اس وجہ سے کہ الحرب خدعة میں حرب کہہ کر خدعہ کی اجازت دی گئی ہے غلط نہ سمجھیں اس لڑائی میں حق کی طرف سے کوئی دھوکہ نہیں ہے۔جو نظریات کی جنگ ہے جس میں حق اور باطل کا مقابلہ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا اس جنگ پر آنحضرت ﷺ کا وہ مقولہ صادق نہیں آتا کیونکہ وہ مراد نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ کی اگر یہ مراد ہوتی کہ نظریاتی جنگوں میں بھی اہل حق کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ ہر قسم کے دھوکے اور فریب سے کام لیں تو سب سے بڑی جنگ تو آپ لڑ رہے تھے۔سب سے بڑے حق پر تو آپ قائم تھے۔باطل کی سب سے زیادہ خطرناک سازشوں کا تو آپ کو سامنا تھا ایک آپ کے کردار میں سے معمولی سی جھلک بھی دکھا ئیں جہاں آپ نے نظریاتی جنگ میں کسی قسم کے دھو کے یا تلبیس سے کام لیا ہو۔کھلی کھلی کتاب ہے۔آج بھی آپ کے سامنے ویسی ہی ہے جیسی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ پر نازل ہوتی تھی ایسی روشن ایسی بین کتاب ہے کہ ایک ادنی سا بھی سایہ اس پر کسی تلبیس اور دھو کے کا نہیں ہے۔قول سدید