خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 58

خطبات طاہر جلد ۱۱ 58 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء صدرانجمن کے نام یہ جائیداد میں بحال کر دی ہیں اور اس میں ہم ہندوستان کی عدلیہ کے بڑے ممنون ہیں جنہوں نے بہت ہی اعلیٰ انصاف کے ساتھ کارروائی کی۔کسی تعصب کو انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا اور اس ثبوت کے مہیا کرنے پر کہ وہ صدر انجمن احمد یہ جو اُن چیزوں کی مالک تھی بلا انقطاع قادیان میں موجود رہی ہے اور وہی مالک ہے اس لئے اس کو مہاجر قرار دے کر تمہیں ان جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔اس دلیل پر ہندوستان کی عدلیہ نے انصاف کا بہت ہی اعلیٰ نمونہ دکھایا اور یہ جائیدادیں بحال کر دیں۔لیکن جب تک یہ جائیدادیں بحال ہوئیں اس وقت تک بہت سے اداروں پر دوسرے قابض ہو چکے تھے۔مثلاً تعلیم الاسلام کا لج جو پہلے تعلیم الاسلام سکول ہوا کرتا تھا اسے اس وقت سکھوں کا ایک ادارہ ہے جو چلا رہا ہے۔نام اس کا مجھے یاد نہیں ، خالصہ نام سے کوئی ادارہ ہے اور وہ انہی کے قبضہ میں ہے مگر صورتحال یہ ہے کہ اس کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ دیکھ کر رونا آتا ہے۔جس حال میں ہم نے تقسیم کے وقت اس عمارت کو چھوڑا تھا اس حال سے بہت زیادہ بدتر ہو چکی ہے لیکن اس کو بحال کرنے کے لئے یا اس میں مزید اضافے کی خاطر کوئی بھی خرچ نہیں کیا گیا یہانتک کہ جو کمرہ زیر تعمیر تھا ، جس کی چھت پڑنے والی تھی ، جس حالت میں اینٹیں پڑی تھیں اسی طرح آج بھی پڑی ہیں اور وہ تالاب جسے پیچھے چھوڑ کر آئے تھے جو سکول کا سوئمنگ پول (Swimming Pool) تھا بعد میں کالج کا بن گیا اسے اس زمانہ میں ٹینک (Tank) کہا کرتے تھے اور اس کی حالت یہ ہے کہ اس میں اب گندا پانی جمع ہے کوئی دیکھ بھال کا انتظام نہیں۔لیکن وہ وقار عمل سے اور بڑی دعاؤں کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔اسکی تعمیر ایسی اعلیٰ اور پختہ ہے کہ میں نے پھر کر دیکھا ہے ایک اینٹ بھی ابھی اپنی جگہ سے نیچے نہیں بیٹھی حالانکہ کھلے آسمان کے نیچے بغیر دیکھ بھال کے پڑا ہوا ہے۔تو اصل دعا تو یہی کرنی چاہئے کہ قادیان میں تعلیمی اداروں کو بحال کرنا ہے تو یہ عمارتیں جماعت کو واپس ملیں۔اس سلسلہ میں کچھ گفت وشنید کا میں وہاں آغاز کر آیا ہوں۔کچھ یہاں سے سکھوں کی اس لیڈر شپ سے بھی بات کریں گے جو باہر ہے اور پنجاب میں بھی اس تحریک کو چلایا جائے گا۔اگر وہ ہمیں یہ ادارہ واپس کر دیں تو بہت وسیع کھیل کے میدان بھی اس کے ساتھ ہیں اور ایسا شاندار کالج دوبارہ وہاں قائم کیا جاسکتا ہے جو تمام پنجاب بلکہ ہندوستان میں ایک شہرت اختیار کر جائے۔دور دور سے طلباء وہاں آئیں۔بہترین اس کے