خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 622
خطبات طاہر جلد ۱۱ 622 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء و پس اسی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ مکر جو خدا کی شان کے مناسب حال ہیں وہ اس قسم کے ہیں جن کے ذریعہ سے وہ نیکوں کو آزماتا ہے اور بدوں کو جو اپنی شرارت کے مکر نہیں چھوڑتے سزا دیتا ہے اور اُس کے قانون قدرت پر نظر ڈال کر ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی مخفی رحمتیں یا مخفی غضب اس کے قانون قدرت میں پائے جاتے ہیں بعض اوقات ایک مکار شریر آدمی جو اپنے بدمکروں سے باز نہیں آتا بعض اسباب کے پیدا ہونے سے خوش ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ ان اسباب کے ذریعہ سے جو میرے لئے میسر آگئے ہیں ایک مظلوم کو انتہا درجہ کے ظلم کے ساتھ پیس ڈالوں گا مگر انہی اسباب سے خدا اسی کو ہلاک کر دیتا ہے اور یہ خدا کا مکر ہوتا ہے جو شریر آدمی کو ان کاموں کے بد نتیجے سے بے خبر رکھتا ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ اس مکر میں اس کی کامیابی ہے۔۔۔۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۹۹-۲۰۰) پس یہ بھی مکر کی ایک قسم ہے لیکن میں اب ایک ایسے مکر کا ذکر کرتا ہوں جس کا اُن آیات کریمہ میں ذکر ملتا ہے جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔سب سے بد مکروہ ہے جو دین کے خلاف استعمال کیا جائے اور جس کے نتیجہ میں انسان خود بھی کبھی پر قائم رہے اور دوسرے بنی نوع انسان کو بھی دھوکہ دے کر سچائی سے باز رکھنے کی کوشش کرے۔چنانچہ مکر جب ترقی کرتا ہے تو جیسا میں نے شروع سے مضمون کو اس طرح اُٹھایا ہے کہ ایک انسان اپنی ذات میں مکر کرتا ہے ، اپنے ماحول میں مکر کرتا ہے پھر قومی مکر ہوتے ہیں جس میں سیاسی مکر کی مثال دی تھی۔اقتصادی مکر بھی ہیں اور بھی ہر قسم کے تمدنی مگر ہیں مگر سب سے زیادہ بھیا نک جو قومی مکر کی صورت میں انسانوں پر بلائیں توڑ رہیں وہ سیاسی مکر ہیں اور ساری دنیا میں بدامنی کے ذمہ دار اکثر صورتوں میں سیاسی مکر ہی ہیں لیکن اس سے بہت بڑھ کر خطر ناک مکروہ ہے جو مذہبی مکر ہے جس کے ذریعہ انسان کو ہدایت سے باز رکھا جاتا ہے اور قرآن کریم نے اسی مکر کا ذکر ان آیات میں فرمایا ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائیں فرمایا۔اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهُ في الظُّلمت اور کیا وہ شخص جو مردہ ہو اور پھر ہم نے اُسے زندہ کر دیا ہو اور اُس کے لئے ایک