خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد ۱۱ 621 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء دینے کا پہلو ہے اس میں جھوٹ نہیں ہے۔اس حد تک مکر امن میں جائز ہے اور مومن کی عملی زندگی میں بعض ایسے مقامات آتے ہیں جہاں امن کی حالت میں بھی ایک چھوٹی سی جنگ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اس مکر کا بھی دراصل اس معمولی سی جنگ کی کیفیت سے تعلق ہے۔بچے اور ماں کے درمیان جب اختلاف پیدا ہو جائیں تو ایک چھوٹی سی جنگ کی سی شکل پیدا ہو جاتی ہے۔اس وقت مکر کرنا ہے مگر مگر خیر کرنا ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔66۔۔۔اس مکر سے بچہ کے دل میں ایک خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ دوا کو پی لیتا ہے۔۔۔ہم نے بھی بار ہا اس کو استعمال کیا ہے اور اللہ کے فضل سے بڑا فائدہ پہنچتا ہے۔جو بچے ضد کر کے بیٹھے ہیں اُن کو مارنے کی بجائے ، زبردستی کرنے کی بجائے اس رنگ میں دوا دے دی جاتی ہے کہ وہ اُسے قبول کر لیتے ہیں پھر فرماتے ہیں۔۔۔۔اور جیسا کہ پولیس کے بعض لوگوں کو یہ خدمت سپرد ہے کہ وہ پولیس کی وردی نہیں رکھتے اور عام لوگوں کی طرح سفید پوش رہتے ہیں اور پردہ میں 66 بدمعاشوں کو تاڑتے رہتے ہیں پس یہ بھی ایک قسم کا مگر ہے مگر نیک مکر۔لوگوں کے شر سے معصوم لوگوں کو بچانا یہ نیکی کا کام ہے۔پس پولیس اگر اپنے پولیس کے لباس کے بغیر سادہ عام لباس میں نگرانی کرتی ہے تو اُس کا نام جھوٹ ہے نہ مکرشر ہے بلکہ مکر خیر ہے مگر یہی چیز کوئی چور اختیار کرتا ہے اور پولیس کا لباس پہن کر حملے کرتا ہے تو یہ مکر شر بن جاتا ہے۔لباس بدلنے کا نام نہ شر ہے نہ خیر وہ نیت یا مقصد اس کو شر یا خیر بناتے ہیں جن کی وجہ سے لباس تبدیل کرنے کی کارروائی کی جاتی ہے۔پس یہ بھی ایک قسم کا مکر ہے مگر نیک مکر ہے۔۔۔۔ایسا ہی طالب علم یا وکلاء یا ڈاکٹروں کا امتحان لینے والے یا کسی اور صیغہ میں جو متحن ہوتے ہیں وہ بھی نیک نیتی سے سوال بنانے کے وقت ایک 66 حد تک مکر کرتے ہیں۔۔۔یہ ہمارا روز مرہ کا تجربہ ہے۔ممتحن بعض دفعہ بڑی چالا کی سے اس رنگ میں سوال بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو پوری طرح ہوشیار طالب علم نہ ہو وہ ٹھوکر کھا جائے اور اُس کے پوری طرح ہوشیار ہونے کا امتحان اس لئے لیا جاتا ہے کہ اُس مضمون پر عبور حاصل ہو گیا ہے کہ نہیں اور یہ مکر خیر ہے۔